LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو طبی سہولیات، اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے کی ہدایت اسلام آباد ہائیکورٹ: جیل حکام کو بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی، اہلخانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جیل قیدِ تنہائی کیخلاف درخواستیں قابلِ سماعت قرار عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ یورپی یونین واشنگٹن کے غیر قانونی اقدامات میں شریک بن چکی ہے: اسماعیل بقائی ایران تیل و گیس کی ترسیل میں خلل ڈالنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے: جے ڈی وینس آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سعودی آئل ٹینکر کو روک لیا گیا: ایرانی میڈیا وزیراعظم شہباز شریف کی شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان مملکت کے اجلاس میں شرکت صدر مملکت آصف علی زرداری ویانا سے لندن پہنچ گئے امریکی فوج کے سیکرٹری ڈین ڈرسکول مستعفی ایران کی حملوں کیلئے سرزمین دینے والے ممالک کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی ایران کا امریکا کے کسی بھی حملے کا جواب کئی گنا زیادہ شدت سے دینے کا اعلان ٹرمپ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ بنانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے: ابوفضل شکارچی ترکیہ نے اسرائیلی وزیراعظم کو دنیا کی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیدیا

امریکا کا 66 عالمی اداروں و تنظیموں سے علیحدگی اور فنڈنگ روکنے کا اعلان

Web Desk

8 January 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا درجنوں بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کے اداروں سے علیحدگی اختیار کرے گا، جن میں عالمی موسمیاتی معاہدہ اور خواتین کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کا ادارہ بھی شامل ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ ادارے امریکی قومی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق امریکا 35 غیر اقوام متحدہ تنظیموں اور 31 اقوام متحدہ کے اداروں سے نکلنے کا ارادہ رکھتا ہے، جن میں اقوام متحدہ کا فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج بھی شامل ہے، جو 2015 کے پیرس ماحولیاتی معاہدے کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

فیصلے کے تحت امریکا اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین (یو این ویمن) اور اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) سے بھی علیحدگی اختیار کرے گا۔ میمو کے مطابق ان اداروں سے علیحدگی کا مطلب امریکی شرکت اور مالی تعاون کا خاتمہ ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تمام بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں کے جامع جائزے کا حصہ ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ امریکی شمولیت اور فنڈنگ قومی ترجیحات اور مفادات سے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔