LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کے زیر قبضہ اولیشکی میں شہری بھوک اور ادویات کی شدید قلت کا شکار ہیں: یوکرین چین: بچوں کو سیسہ آلود خوراک دینے کا الزام، نرسری کی مالکن سمیت 5 ارکان کو قید کی سزائیں مولانا کو خیبر پختونخوا میں حصہ نہیں ملے گا: طلال چودھری پیپلزپارٹی کی بھی مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر شدید تنقید شمال مشرقی سعودی عرب میں ساحل کے قریب ایک اور آئل ٹینکر پر حملہ سانحہ کارساز کو 19 برس بیت گئے، المناک واقعہ کا دکھ آج بھی تازہ مودی کی بدترین پالیسیوں کیخلاف بھارتی نوجوانوں کی آواز بیرون ملک بھی پہنچ گئی اسلام آباد میں بنگلہ دیشی ثقافتی شام کا انعقاد، بنگالی موسیقی اور رقص توجہ کا مرکز رہے بابوسر ٹاپ روڈ تین روزہ بندش کے بعد ٹریفک کے لیے بحال بھارتی پروازوں کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع کا نوٹم جاری سان فرانسیسکو میں پاک امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کا انعقاد، ٹیکنالوجی تعاون پر اتفاق اسحاق ڈار کی تجارت، سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے قابل عمل تجاویز تیار کرنے کی ہدایت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ پہلے ہو جانا چاہیے تھا: نواز شریف تائدہ سیکٹر اور اطراف میں افغان طالبان کی فائرنگ، پاک فوج کی کارروائی میں متعدد ہلاک فش پراڈکٹس کی برآمدات 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں: وفاقی وزیر بحری امور

روس نے وینزویلا سے منسلک اپنے آئل ٹینکر کی حفاظت کے لیے آبدوز اور دیگر بحری جہاز روانہ کر دیے

Web Desk

7 January 2026

روس نے وینزویلا سے منسلک اپنے روسی پرچم بردار آئل ٹینکر کی حفاظت کے لیے آبدوز اور دیگر بحری جہاز روانہ کر دیے، جبکہ امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈ نے ٹینکر کو قبضے میں لے لیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ جہاز ایک خفیہ نیٹ ورک ’شیڈو فلیٹ‘ کا حصہ ہے، جس کے ذریعے پابندیوں کی زد میں آنے والے ممالک جیسے وینزویلا، روس اور ایران کا خام تیل عالمی منڈی تک پہنچایا جاتا ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق جہاز نے اپنی رجسٹریشن روس منتقل کر کے نام Bella 1 سے بدل کر Marine Era رکھا اور روسی پرچم نمایاں کیا۔

روس کی وزارت خارجہ نے امریکی قبضے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور جہاز پر موجود عملے کی حفاظت اور فوری واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جہاز ناکہ بندی سے بچتے وقت وینزویلا کی طرف سفر کر رہا تھا، تاہم اس میں کوئی تیل موجود نہیں تھا۔ آئل ٹینکر سنہ 2024 سے امریکی پابندیوں کی زد میں ہے اور اس پر ایران اور حزب اللہ سے مبینہ روابط کے الزامات بھی عائد ہیں، جس کے بعد امریکی-روسی سمندری کشیدگی بڑھ گئی ہے۔