LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ماہانہ بنیادوں پر ہوشربا اضافہ آرمینیا کی ایران کی سلامتی کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنے کی یقین دہانی پاکستان اور ورلڈ بینک کا سرمایہ کاری، روزگار کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاق اشرافیہ نے پورے معاشرے کو یرغمال بنا رکھا ہے: حافظ نعیم الرحمان امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود ایران جیٹ فیول میانمار پہنچانے میں کامیاب افغانستان میں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی کے پانچ سال مکمل گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں: محسن نقوی وزیر خزانہ کی عالمی مالیاتی اداروں سے ملاقاتیں، برآمدات میں اضافے پر زور پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری و سلامتی کیلئے شانہ بشانہ کھڑا ہے: وزیراعظم مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں ماحولیاتی نسل کشی کے مترادف ہیں: ایرانی صدر گورنر فیصل کریم کنڈی کا خیبر پختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان حوثی ملیشیا کے ایئرپورٹ حملوں پر سعودی التحالف کا بڑا ایکشن: 127 ذخیرہ گاہیں تباہ، حوثی صلاحیتیں ختم کرنے کا اعلان برین ڈرین کا بحران: گزشتہ 3 سالوں میں 18 لاکھ 71 ہزار سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بیرونِ ملک منتقل خیبرپختونخوا میں گورنر راج غیر آئینی ہے، پرامن اور قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے: محمود خان اچکزئی Slug: افغان طلبہ کا میڈیکل کالجوں سے اخراج کا معاملہ: لاہور ہائیکورٹ کی حکمِ امتناعی میں توسیع

فلپائن میں ہولناک سمندری طوفان کالمیگی کی تباہ کاریاں، 140 افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ

Web Desk

7 November 2025

فلپائن میں تباہ کن سمندری طوفان کالمیگی (Kalmaegi) نے وسطی علاقوں کو شدید متاثر کیا، جس کے نتیجے میں 140 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، طوفان کے باعث 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہواؤں اور طغیانی نے شہر سیبو سمیت کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ سیلابی ریلوں نے درجنوں مکانات، گاڑیاں اور شپنگ کنٹینرز بہا دیے۔
حکام کے مطابق، طوفان کالمیگی کو رواں سال 2025 کا سب سے خطرناک طوفان قرار دیا گیا ہے۔ صورتحال بگڑنے پر صدر مارکوس نے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔
دوسری جانب، رپورٹس کے مطابق یہ طوفان فلپائن میں تباہی مچانے کے بعد اب ویتنام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ویتنامی حکام نے ہنگامی اقدامات کے تحت 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد فوجی اور ریسکیو اہلکار تعینات کر دیے ہیں، ساحلی علاقوں سے شہریوں کے انخلا کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ہوائی اڈے اور مرکزی شاہراہیں بند کر دی گئی ہیں۔