LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی عرب کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: فیصل بن فرحان پنجاب میں 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ، اجتماعات اور مظاہروں پر پابندی پڑوسی ممالک ایران پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دیں: پزشکیان مصطفیٰ کمال جس دن مناظرے کا کہیں، میں تیار ہوں: مرتضیٰ وہاب عمان مذاکرات کا کسی صورت یہ مطلب نہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی: عراقچی حنا جاوید قتل کیس: مقتولہ کے بھائی کا قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو فوری مداخلت کیلیے دوسرا خط نئے صوبوں کا معاملہ قومی مشاورت سے حل ہونا چاہیے: چودھری شجاعت حسین افغانستان پاکستان کیخلاف دہشت گردی کا اہم مرکز بن چکا ہے: واشنگٹن پوسٹ یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں میں جھڑپوں سے 76 ہزار افراد بے گھر روسی حملوں میں شدت، رواں سال انتہائی مشکل موسم سرما کا سامنا ہو سکتا ہے: یوکرینی حکام ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا

شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کا 148واں یومِ ولادت آج منایا جا رہا ہے

Web Desk

9 November 2025

یومِ اقبال: شاعرِ مشرق کے افکار آج بھی قوم کے لیے مشعلِ راہ
ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی 148ویں سالگرہ ملک بھر میں عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے
سیالکوٹ کے روحانی اور فکری افق سے طلوع ہونے والے مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ 9 نومبر 1877ء کو پیدا ہوئے۔ ہر سال اس دن کو ملک بھر میں یومِ اقبال کے طور پر منایا جاتا ہے۔
علامہ اقبالؒ نے اپنی ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، پھر لاہور کے گورنمنٹ کالج سے بی اے اور ایم اے کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے آپ انگلستان اور جرمنی گئے، جہاں سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ تدریس، وکالت، شاعری اور سیاست— اقبالؒ نے ہر میدان میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
اقبالؒ کے 1930ء کے الہٰ آباد والے صدارتی خطبے میں پیش کردہ تصورِ پاکستان نے برصغیر کے مسلمانوں کو نیا حوصلہ دیا۔
آپ 21 اپریل 1938ء کو خالقِ حقیقی سے جا ملے مگر ان کی تعلیمات آج بھی زندہ ہیں۔
شاعرِ مشرق نے نوجوانوں میں خودی، عمل، اور ایمان کی روح پھونکی۔ ان کے افکار اور شاعری آج بھی ملتِ اسلامیہ کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔