LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلوچستان کے عوام کا امن، خوشحالی اور فلاح ریاستی کوششوں کا مرکز ہے: فیلڈ مارشل امریکی سینٹرل کمانڈ کی ایران کے 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کی تصدیق نئے صوبوں کا معاملہ محاذ آرائی نہیں، مشاورت سے حل ہونا چاہیے: چودھری شجاعت یونان میں فضائی مظاہرے کے دوران ایف-4 فینٹم جنگی طیارہ تباہ امریکا کی اقتصادی جنگ کا مقابلہ کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا: ایرانی نائب صدر شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں پوتن کی متحرک سفارت کاری نمایاں کوئی فرد واحد یا سیاسی جماعت نئے انتظامی یونٹس روک نہیں سکتی: محسن نقوی سانحہ گل پلازا: پولیس کا چالان عدالت میں جمع، ایسوسی ایشن مرکزی ذمہ دار قرار آئین پامال کر کے جتنے مرضی چھوٹے صوبے بنالیں کوئی فائدہ نہیں: خواجہ سعد رفیق سیف گیمز 2027 کی تاریخیں مقرر، 28 کھیلوں میں 6 ہزار سے زائد کھلاڑی و آفیشلز شریک ہوں گے پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے، روٹی 10 روپے کی ہو: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کی پریس کانفرنس مشرقِ وسطیٰ کے عوام بیرونی مداخلت مسترد کر دیں: چینی صدر نائیجیریا میں پیٹرول چوری کے دوران زہریلی گیس سے 37 افراد ہلاک محکمہ موسمیات کی بالائی پنجاب، اسلام آباد اور خیبر پختونخوا میں شدید بارش کی پیشگوئی پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر اور سفارت کاری عالمی امن کیلئے ناگزیر ہے: رضوان سعید

پاکستان ثالث کی اپیل پر افغان طالبان سے مذاکرات بحال، امن عمل کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ

Web Desk

30 October 2025

پاکستان نے ثالث کی درخواست پر افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے امن عمل کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد استنبول میں قیام بڑھائے گا تاکہ بات چیت کے سلسلے کو جاری رکھا جا سکے۔

اطلاعات کے مطابق افغانستان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی ملک بدری کی تجویز پیش کی ہے، جب کہ پاکستان نے افغان طالبان سے ٹی ٹی پی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے اور اس کی کارروائیوں کو غیر شرعی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت دہشت گردوں کے خلاف قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی کرے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی تجاویز پر افغان طالبان کی مشاورت جاری ہے۔ یاد رہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کے پہلے مرحلے کے بعد عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد استنبول میں چار ادوار ہوئے۔

گزشتہ روز وزیر اطلاعات عطا محمد تارڑ نے مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان وفد نے پاکستان کے قابلِ اعتبار شواہد تسلیم کیے مگر کوئی حتمی یقین دہانی نہیں دی۔ ان کے مطابق افغان نمائندے اصل مسئلے سے ہٹ کر الزام تراشی اور تاویلات میں مصروف رہے۔

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کابل کے ساتھ ایک معاہدہ طے ہونے کے قریب تھا، مگر افغان وفد نے کابل سے مشاورت کے بعد اچانک پس قدمی اختیار کرلی۔