LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع صرف3سے 5روزکےلیے کی، جلد ڈیل چاہتےہیں، امریکی میڈیا اگلے 36سے 72گھنٹوں میں پاکستان میں امریکا ایران مذاکرات ممکن ہیں،ٹرمپ سفارتی میدان میں ہونے والی پیش رفت پر نظررکھے ہوئے ہیں، ایرانی وزارت خارجہ آبنائے ہرمزکے قریب 3بحری جہازوں پر فائرنگ، 2جہازایرانی تحویل میں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر کی ملاقات: علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون پر اہم گفتگو برطانیہ کی امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت، اسحاق ڈار اور برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات حکومت اور آئی ایم ایف میں نئی آٹو پالیسی پر اتفاق، ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ پہلگام واقعہ کے ایک سال بعد بھی بھارت شواہد پیش نہ کر سکا: عطاء اللہ تارڑ ایران جنگ کی مخالفت: ایرانی نژاد امریکی رکن کانگریس یاسمین انصاری کو دھمکیاں زمین کے قدرتی وسائل انسانی زندگی کی بقا کیلئے ناگزیر ہیں: وزیراعظم جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام ایران سے حقائق پر بات کرنے کے بجائے اسے ٹرخایا گیا، دھمکیاں بھی دی گئیں: روس اقوام متحدہ کا جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم، پاکستانی کوششوں کی مکمل حمایت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ایران نے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی  شرائط مسترد کردیں: ایرانی سرکاری میڈیا

پاکستان ثالث کی اپیل پر افغان طالبان سے مذاکرات بحال، امن عمل کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ

Web Desk

30 October 2025

پاکستان نے ثالث کی درخواست پر افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے امن عمل کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد استنبول میں قیام بڑھائے گا تاکہ بات چیت کے سلسلے کو جاری رکھا جا سکے۔

اطلاعات کے مطابق افغانستان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی ملک بدری کی تجویز پیش کی ہے، جب کہ پاکستان نے افغان طالبان سے ٹی ٹی پی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے اور اس کی کارروائیوں کو غیر شرعی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت دہشت گردوں کے خلاف قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی کرے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی تجاویز پر افغان طالبان کی مشاورت جاری ہے۔ یاد رہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کے پہلے مرحلے کے بعد عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد استنبول میں چار ادوار ہوئے۔

گزشتہ روز وزیر اطلاعات عطا محمد تارڑ نے مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان وفد نے پاکستان کے قابلِ اعتبار شواہد تسلیم کیے مگر کوئی حتمی یقین دہانی نہیں دی۔ ان کے مطابق افغان نمائندے اصل مسئلے سے ہٹ کر الزام تراشی اور تاویلات میں مصروف رہے۔

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کابل کے ساتھ ایک معاہدہ طے ہونے کے قریب تھا، مگر افغان وفد نے کابل سے مشاورت کے بعد اچانک پس قدمی اختیار کرلی۔