LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
قطر نے ہمارے مؤقف سے امریکا کو آگاہ کر دیا، اب جواب کا انتظار ہے: عراقچی پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی عائد سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے: مولانا طاہر اشرفی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل امریکا، اسرائیل کی ایران کو پسماندگی میں دھکیلنے کی کوشش ناکام ہوگئی: ایرانی سپریم لیڈر ٹرمپ کی ایران کو پابندیوں میں ریلیف اور منجمد اثاثوں کی پیشکش کی تردید سلامتی کونسل: پاکستان کا 1967 کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کے فوری قیام کا مطالبہ کلابریا ضمنی انتخاب، میلونی کی حکمران اتحادی جماعت نے اہم نشست دوبارہ حاصل کرلی اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ نے پہلی بار زمین کے مدار میں پہنچنے کا اہم سنگِ میل عبور کر لیا المخا میں یمنی افواج کے ساتھ جھڑپوں میں 5 حوثی ہلاک، 13 زخمی برطانیہ میں دہشت گردی کے شبہ میں گرفتار 5 افراد ضمانت پر رہا غزہ میں نیتن یاہو کی پیدا کردہ تکالیف کو جائز قرار نہیں دے سکتے، برطانوی وزیر خارجہ ایران کے متعدد سابق حکومتی عہدیداران کا حکومت کو خط، این پی ٹی معاہدے سے نکلنے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا زائرین کی پروازیں بحال کرنے کیلئے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ

یمنی فورسز کا حالیہ حملوں میں 4 ایرانی عسکری ماہرین کی ہلاکت کا دعویٰ

Web Desk

28 September 2026

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مسلح فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ تعز میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر کیے گئے حالیہ کامیاب ڈرون اور میزائل حملوں میں چار ایرانی عسکری ماہرین ہلاک ہو گئے ہیں۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل مجید عبداللہ النزیلی نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں تصدیق کی کہ حکومتی فورسز نے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف حساس حصوں میں حوثی جنگجوؤں کے عسکری اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ تفصیلات میں بتایا کہ تعز گورنریٹ میں حوثی مواضع پر کیے جانے والے ان کارگر حملوں کے نتیجے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے تعلق رکھنے والے 4 عسکری ماہرین موقع پر ہی مارے گئے۔ یمنی حکومت نے اس پیش رفت کو حوثی ملیشیا کی عسکری صلاحیتوں اور انہیں ملنے والی بیرونی تکنیکی معاونت کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔