LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بغیر پائلٹ کے مسافر طیارے نے پہلی پرواز کامیابی سے مکمل کرلی اقوام متحدہ نے ایران جنگ ختم کرانے کیلئے پاکستان سے رابطے کی تصدیق کردی قوم کی حمایت سے دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل کرتارپور میں بابا گورو نانک کی 487ویں برسی کی تین روزہ تقریبات کا آخری روز این سی سی آئی اے کی غیرقانونی کال سینٹر پر کارروائی،17 غیر ملکیوں سمیت 100 افراد زیر حراست کوہاٹ پولیس لائنز حملے میں 869 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال ہوا: بم ڈسپوزل رپورٹ اسحاق ڈار کی نیویارک میں اہم ملاقاتیں، اسلام آباد یادداشت پر عمل درآمد پر زور امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس کا ٹرمپ کی کوریج پر پابندی کا فیصلہ پاکستان اور سعودیہ میں سرکاری و سفارتی پاسپورٹ پر ویزا شرائط ختم حوثیوں کے حملے: برطانیہ کا سعودیہ کو دفاعی فضائی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ فرانس کا حوثیوں سے فوجی کشیدگی ختم، امن مذاکرات میں شامل ہونے کا مطالبہ امریکا کی ایران جنگ سے متاثرہ خلیجی ممالک کو 5 ارب ڈالر کے فنڈز کی پیشکش امریکا اور ڈنمارک کی 2 نئے فوجی اڈے قائم کرنے کی منصوبہ بندی ایران جنگ نے تیل کی عالمی مارکیٹ میں نیا بحران پیدا کر دیا: امریکی میڈیا امریکی صدر اپنے سیاسی کیریئر میں مقبولیت کی کم ترین سطح پر آگئے

مسلح تنازع: یمن میں غذائی بحران سنگین ہونے کا خدشہ، اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا

Web Desk

22 September 2026

یمن میں شدت اختیار کرتے ہوئے مسلح تنازع اور تشدد کے باعث ایک بار پھر تباہ کن غذائی بحران پیدا ہونے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس پر عالمی خوراک پروگرام (WFP) نے ہنگامی امدادی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے انہیں تیز کر دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حوثی ملیشیا کی عسکری کارروائیوں اور جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک 1 لاکھ 20 ہزار سے زائد یمنی شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس تازہ تنازع میں اب تک 700 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ ڈبلیو ایف پی کے قائم مقام سربراہ کارل اسکاؤ نے بتایا کہ ادارہ اب تک متاثرہ علاقوں میں تقریباً 60 ہزار افراد کو کھانا اور ضروری غذائی سامان فراہم کر چکا ہے اور مزید لاکھوں بے گھر افراد تک فوری راشن پہنچانے کی تیاری کر رہا ہے۔

عالمی خوراک پروگرام کی رپورٹ کے مطابق یمن کی کل آبادی کا نصف حصہ، یعنی 1 کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد، اس وقت شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 22 لاکھ بچے شدید غذائی قلت (سخت سوکھے کی بیماری) کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یمن اپنی غذائی ضرورت کا 90 فیصد حصہ بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے بحری بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی ناکہ بندی یا کارروائیوں سے رکاوٹیں اس غذائی بحران کو ناگفتہ بہ حالات کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ WFP نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ یمن میں انسانی تباہی کو روکنے کے لیے امدادی فنڈز اور بحری راستوں کی کھلی رسائی کو یقینی بنائے۔