LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات, قانون سازی پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج آبادی کا عالمی دن منایا جارہا ہے

Web Desk

10 July 2026

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج آبادی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے اور اس کا دباؤ دستیاب وسائل کو نگلنے لگا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبادی بڑھنے کی یہی شرح برقرار رہی تو آئندہ 24 سال میں پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن جائے گا۔ منصوبہ بندی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جس میں 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور خدشہ ہے کہ 2050 تک یہ تعداد 39 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ ملک میں آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 2.55 فیصد ہے، جہاں ہر سال تقریباً 68 لاکھ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے، جبکہ ہر سال 11 ہزار مائیں دوران زچگی اور 20 ہزار نومولود بچے ایک ماہ کے اندر انتقال کر جاتے ہیں۔ مزید برآں، 40 فیصد بچے غذائی قلت (Stunting) کا شکار ہیں اور 26 ملین (2 کروڑ 60 لاکھ) بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ آبادی میں ہر ایک فیصد اضافہ فی کس آمدن میں سالانہ 35 ہزار روپے کمی کا باعث بن رہا ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے افراد کو روزگار فراہم کرنے کے لیے 6 سے 7 فیصد جی ڈی پی گروتھ کی ضرورت ہوگی۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ اگر فوری اور ٹھوس منصوبہ بندی نہ کی گئی تو صحت، تعلیم اور معیشت کی بحالی کے اہداف حاصل کرنا ناممکن ہو جائے گا۔