LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات کے بعد دوبارہ ایران پر بمباری کا امکان ظاہر کر دیا جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو بحرہند میں بھی امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنائیں گے: پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ مذاکراتی معاہدے سے مشروط ہے، عباس عراقچی بہاولپور: این اے 168 ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ جاری، 20 امیدوار میدان میں حوثیوں کا بچوں کو زبردستی بھرتی کر کے جنگی محاذوں پر بھیجنے کا انکشاف اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز کے باہر کشمیری امریکی کمیونٹیز کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ ایران نے فضائی پابندیوں کا جواب فوجی کارروائی سے دینے کی خبروں کی تردید کر دی مغرب یوکرین تنازع کے پُرامن حل اور مذاکرات کی بحالی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، سرگئی لاوروف نسل کشی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا، ترک صدر منگھو پیر: روشم خان کے قاتل پکڑے گئے، لواحقین کا 19 روز سے جاری دھرنا ختم یوکرین مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ روسی مفادات کو سامنے رکھ کر کریں گے، صدر پوتن حیدر آباد میں خواتین پولیس پر مشتمل خصوصی ’’نِسا اسکواڈ‘‘ تشکیل واشنگٹن سے مذاکرات پر اب کوئی بھروسہ نہیں: ایرانی صدر پی ٹی آئی لانگ مارچ کی پوزیشن میں نہیں، پہلے ہی کہہ دیا تھا: فیصل کریم کنڈی 4 اکتوبر کی تاریخ بدلنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آ رہی: سلمان اکرم راجہ

یوکرین مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ روسی مفادات کو سامنے رکھ کر کریں گے، صدر پوتن

Web Desk

27 September 2026

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے سینٹ پیٹرزبرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ تعطل کا شکار مذاکرات کی دوبارہ بحالی کی تجاویز میز پر موجود ہیں، تاہم اس حوالے سے تمام تر حتمی فیصلے روسی فیڈریشن کے قومی و سٹریٹجک مفادات کو مدِنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ یوکرینی حکام کی جانب سے توانائی کی تنصیبات، ڈرون حملوں اور فضائی حدود میں جنگ بندی کی تجاویز سامنے آ رہی ہیں، کیونکہ یوکرین کو جدید روسی ‘گیران’ ڈرونز کے خلاف سخت دفاعی چیلنجز کا سامنا ہے۔ صدر پوتن نے واضح کیا کہ یوکرین نے ماضی میں استنبول مذاکراتی عمل کو خود منقطع کیا اور انتخابات کے دوران روس پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کیے، لہٰذا اب کیف کو روسی جوابی کارروائیوں کا نتیجہ بھگتنا ہو گا۔

یورپی ممالک کے ساتھ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے صدر پوتن نے روس کے یورپ پر حملے کے خدشات کو مکمل بے بنیاد اور سیاسی اشتعال انگیزی قرار دیا۔ ایسٹونیا کے وزیر دفاع کے بیان کو “سیاسی مسخرہ پن” قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یورپ اپنے شہریوں سے یوکرین جنگ کے اخراجات وصول کرنے کے لیے روسی خطرے کا فرضی ہوا کھڑا کر رہا ہے۔ امریکہ اور چین کے باہمی تعلقات کے حوالے سے روسی صدر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع مذاکرات کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان کسی بھی مثبت معاہدے کا اثر عالمی و روسی معیشت پر مثبت پڑے گا۔