LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کا قتل اسلاموفوبیا کے انسداد کے عالمی دن پر او آئی سی کور گروپ کی صدرِ جنرل اسمبلی سے ملاقات وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا 7 فروری کو لبرٹی چوک میں جشنِ بسنت منانے کا اعلان توانائی اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں سعودی عرب سے تعلقات بلند سطح پر لے جانا چاہتے ہیں، ترک صدر امریکی جنگی طیارے نے طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب آنے والا ایرانی ڈرون مار گرایا پاکستان بھی امریکا ایران مذاکرات کا حصہ بنے گا، اسحاق ڈاراستبول جائیں گے اسحاق ڈار سے چینی سفیرکی ملاقات ، اہم امور پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق لیبیاکے اعلیٰ سطح کے وفد کی وزیراعظم اورفیلڈمارشل سےملاقات، باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق وفاق کے ذمے 4400ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں، پنجاب میں سول مارشل لا ہے،سہیل آفریدی قازقستان کے صدر 2روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے لاہور میں 18 سال بعد بسنت کی واپسی، مارکیٹس میں اربوں روپے کی معاشی سرگرمی پاکستان میں شفافیت اور احتساب پر ملک گیر سروے: 67 فیصد عوام نے بدعنوانی کا سامنا نہ ہونے کی تصدیق وزیر خزانہ کی زیر صدارت آج ای سی سی اجلاس، اہم مالی فیصلوں پر غور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ: بانی پی ٹی آئی کو جیل میں طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں سینیٹ اجلاس: ریاست کے اندر کسی کو اسلحہ اٹھانے کی اجازت نہیں، علامہ راجہ ناصر عباس

امریکی جنگی طیارے نے طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب آنے والا ایرانی ڈرون مار گرایا

Web Desk

3 February 2026

امریکا نے بحیرہ عرب میں اپنے بحری بیڑے کی جانب پرواز کرنے والے ایرانی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی ایف-35 جنگی طیارے نے ایرانی ڈرون کو نشانہ بنایا۔

امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ڈرون امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کی جانب بڑھ رہا تھا، جسے حفاظتی اقدام کے تحت مار گرایا گیا۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق ایرانی ڈرون مار گرائے جانے کے باوجود ایران کے ساتھ رواں ہفتے طے شدہ بات چیت اپنے شیڈول کے مطابق ہوگی۔

خبر ایجنسی کے مطابق مار گرایا جانے والا ڈرون شہید-139 تھا۔ امریکی سینٹ کام کے ترجمان ٹم ہاکنز نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی بحری بیڑے اور عملے کے تحفظ کے لیے کی گئی، جس میں کسی امریکی فوجی یا سازوسامان کو نقصان نہیں پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی فیوچر قیمتوں میں فی بیرل ایک ڈالر سے زائد اضافہ دیکھا گیا۔

متعلقہ عنوانات