LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی اپنی زندگیاں اور ٹیکس پرائی جنگ کیلئے استعمال نہ ہونے دیں، اسماعیل بقائی چین کا مشترکہ سلامتی کے فروغ پر زور ایران کے دیرینہ اصول کی عکاسی ہے، قالیباف دنیا کا نقشہ تبدیل ہوگا، اقوام متحدہ میں نئے عالمی نقشے کی قرارداد منظور کراچی: ڈیلیوری کے دوران گلے پر تیز دھار آلہ پھرنے سے نومولود جاں بحق یوکرین میں پرامن تصفیے کی ٹھوس شرائط ابھی موجود نہیں، روسی صدارتی ترجمان امریکا اور اسرائیل جنگ کے ذریعے ایران کو تقسیم کرنیکی کوشش کر رہے: مسعود پزشکیان ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کیلئے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا، ایگزیوس میلونی دوسری عالمی جنگ کے بعد طویل ترین حکومت کرنے والی وزیراعظم بن گئیں امریکا کیلئے مناسب لائحہ عمل یہ ہے کہ وہ خطے سے انخلا کرے، ترجمان ایرانی فوج ایرانی وزیر خارجہ کی اردن کے ہم منصب پر شدید تنقید ایرانی حکام کا جنگ کے دوران امریکا کے 370 طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو جدید ہتھیار بیچنے کی منظوری دے دی احسن اقبال نے ملک میں 15 نئے صوبوں کی تجویز دیدی لاہور سمیت بڑے شہروں سے میئر کا عہدہ ختم کرنے سے بلدیاتی نظام کمزور ہوگا: سعد رفیق امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین پر حملے کی دھمکی

امریکا نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کیلئے کثیر ملکی اتحاد کا منصوبہ بنا لیا

Web Desk

16 March 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی ا نتظامیہ نے آبنائے ہرمز سے  سے گزرنے والے بحری جہازوں کی حفاظت کیلئے کثیر ملکی اتحاد بنانے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے رواں ہفتے کے اوائل میں اس منصوبے کا باضابطہ اعلان متوقع ہے اور کئی ممالک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کیلئے اتحاد بنانے پر اصولی طور پر متفق ہو چکے ہیں۔

ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق سات ممالک کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ان سے اس اہم بحری گزرگاہ کی حفاظت میں مدد کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ Israel بھی آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کیلئے امریکا کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکی صدر کی جانب سے China سمیت دنیا بھر کے ممالک سے مدد کی اپیل کی گئی تھی تاہم اس پر عالمی سطح پر ابھی تک محتاط ردعمل سامنے آیا ہے اور کسی ملک نے تاحال خطے میں بحری جہاز بھیجنے کا اعلان نہیں کیا۔

ادھر امریکا کے قریبی معاشی اتحادی Japan نے بھی آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ جاپانی حکمراں جماعت کے پالیسی چیف کا کہنا ہے کہ خطے میں بہت بڑی صورتحال پیدا ہونے کی صورت میں ہی جاپان اپنے بحری جہاز آبنائے ہرمز بھیجنے پر غور کر سکتا ہے۔