LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

ٹرمپ کے عالمی جنگ کے انتباہ کے بعد امریکی فوج کا خطرناک میزائل تجربہ

Web Desk

30 December 2025

امریکی میرین کور نے اپنے حملہ آور ہیلی کاپٹروں کے لیے ایک جدید اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی جنگ کے خطرے سے خبردار کر چکے ہیں۔

امریکی بحری حدود میں واقع اٹلانٹک ٹیسٹ رینج پر میرین کور نے AH-1Z وائپر ہیلی کاپٹر سے جدید ریڈ وولف (Red Wolf) میزائل فائر کیا، جس نے سمندر میں موجود ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔

یہ جدید میزائل دفاعی کمپنی L3Harris نے تیار کیا ہے۔ ریڈ وولف ایک ماڈیولر، تیز رفتار اور کم بلندی پر پرواز کرنے والا میزائل ہے، جو نہ صرف طویل فاصلے پر موجود اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ ہدف سے متعلق معلومات منتقل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یہ میزائل امریکی میرین کور کی جنگی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا اور مستقبل کی جدید جنگی حکمتِ عملی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔