LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

امریکا کے ایرانی فوجی تنصیبات پر نئے حملے، متعدد ڈرونز بھی مار گرائے

Web Desk

28 May 2026

امریکی فوج نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے اسٹریٹجک خطے کے قریب واقع ایران کی ایک اہم فوجی سائٹ پر نئے فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق، اس ایرانی فوجی تنصیب کو خطے میں موجود امریکی افواج اور بین الاقوامی تجارتی بحری ٹریفک کے لیے ایک سنگین اور براہِ راست خطرہ قرار دیا گیا تھا، اور ان حملوں کا بنیادی مقصد اس خطرے کو جڑ سے ختم کرنا تھا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی (روئٹرز) کے مطابق، ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان حملوں کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب، امریکی حکام کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران امریکی فضائیہ نے متعدد ایرانی ڈرونز کو بھی فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

اس سے قبل، ایرانی نیوز ایجنسی ‘فارس’ نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران کے اہم ساحلی اور بندر گاہی شہر بندر عباس کے مشرقی علاقے میں مقامی وقت کے مطابق رات گئے تقریباً ڈیڑھ (1:30) بجے تین شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

  • دھماکوں کی نوعیت: ابتدائی طور پر دھماکوں کی درست جگہ اور ان کی نوعیت واضح نہیں ہو سکی تھی، تاہم اس کے فوراً بعد امریکی حملوں کی تصدیق سامنے آئی۔

  • فضائی دفاعی نظام (Air Defense System): حملوں کے فوری بعد بندر عباس اور اس کے گردونواح میں ایرانی فوج کے فضائی دفاعی نظام کو مختصر وقت کے لیے انتہائی ہائی الرٹ اور فعال کر دیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی دفاعی نوعیت کی تھی کیونکہ مذکورہ ایرانی سائٹ سے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ تھا۔

“آبنائے ہرمز عالمی تجارت بالخصوص تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کی سب سے اہم ترین گزرگاہ ہے۔ امریکی افواج خطے میں بین الاقوامی قوانین کے تحت جہاز رانی کی آزادی اور اپنے عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی خطرے کا فوری جواب دیا جائے گا۔”

اس تازہ ترین فوجی کارروائی کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز کے خطے میں پہلے سے موجود شدید سیکیورٹی تناؤ اور ایران امریکہ کشیدگی میں مزید خطرناک حد تک اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔