LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایبٹ آباد: بیکری میں آگ لگنے سے جھلسنے والے 3 مزدور دم توڑ گئے یو اے ای میں امریکی سفارتخانے نے سکیورٹی صورتحال کے باعث قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دیں امریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان یورپی یونین کا غزہ کی بحالی کیلیے ایک ارب ڈالر فنڈ کا اعلان خلیجی ملک نے نقد ادائیگیوں سے متعلق بڑی پابندی لگا دی ٹرمپ سے متفق ہوں کہ جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے پر معاوضہ ملنا چاہیے: عباس عراقچی کوئٹہ اور نوشکی میں فائرنگ سے قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق کوہاٹ میں طوفانی بارش سے مکان کی چھت گر گئی، 9 افراد جاں بحق فیصل آباد میں گندے نالے میں گر کر 8 سالہ بچہ جاں بحق وزیراعظم سے سیکرٹری جنرل مسلم ورلڈ لیگ کی ملاقات، مسلم دنیا کے مسائل پر تبادلہ خیال ڈھوک ٹاہلیاں ڈیم میں مچھلیوں کی ہلاکت کا معاملہ وفاق تک پہنچ گیا، تحقیقات کا حکم ایران میں حالیہ امریکی حملوں میں شہدا کی تعداد 24 ہوگئی ایران کا ایک ارب ڈالر مالیت کا خام تیل چین روانہ، ایرانی آئل ٹینکروں نے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیا پٹرولیم قیمتوں کے نظام میں اصلاحات، پلیٹس ڈیٹا عوامی کرنے کی سفارش پاکستان اور سعودی عرب کا توانائی تعاون بڑھانے پر اتفاق

امریکا کے ایرانی فوجی تنصیبات پر نئے حملے، متعدد ڈرونز بھی مار گرائے

Web Desk

28 May 2026

امریکی فوج نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے اسٹریٹجک خطے کے قریب واقع ایران کی ایک اہم فوجی سائٹ پر نئے فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق، اس ایرانی فوجی تنصیب کو خطے میں موجود امریکی افواج اور بین الاقوامی تجارتی بحری ٹریفک کے لیے ایک سنگین اور براہِ راست خطرہ قرار دیا گیا تھا، اور ان حملوں کا بنیادی مقصد اس خطرے کو جڑ سے ختم کرنا تھا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی (روئٹرز) کے مطابق، ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان حملوں کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب، امریکی حکام کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران امریکی فضائیہ نے متعدد ایرانی ڈرونز کو بھی فضا میں ہی تباہ کر دیا۔

اس سے قبل، ایرانی نیوز ایجنسی ‘فارس’ نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران کے اہم ساحلی اور بندر گاہی شہر بندر عباس کے مشرقی علاقے میں مقامی وقت کے مطابق رات گئے تقریباً ڈیڑھ (1:30) بجے تین شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

  • دھماکوں کی نوعیت: ابتدائی طور پر دھماکوں کی درست جگہ اور ان کی نوعیت واضح نہیں ہو سکی تھی، تاہم اس کے فوراً بعد امریکی حملوں کی تصدیق سامنے آئی۔

  • فضائی دفاعی نظام (Air Defense System): حملوں کے فوری بعد بندر عباس اور اس کے گردونواح میں ایرانی فوج کے فضائی دفاعی نظام کو مختصر وقت کے لیے انتہائی ہائی الرٹ اور فعال کر دیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی دفاعی نوعیت کی تھی کیونکہ مذکورہ ایرانی سائٹ سے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ تھا۔

“آبنائے ہرمز عالمی تجارت بالخصوص تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کی سب سے اہم ترین گزرگاہ ہے۔ امریکی افواج خطے میں بین الاقوامی قوانین کے تحت جہاز رانی کی آزادی اور اپنے عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی خطرے کا فوری جواب دیا جائے گا۔”

اس تازہ ترین فوجی کارروائی کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز کے خطے میں پہلے سے موجود شدید سیکیورٹی تناؤ اور ایران امریکہ کشیدگی میں مزید خطرناک حد تک اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔