LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

امریکہ اور بھارت کے تعلقات بدترین سطح پر پہنچ گئے، بھارتی ارب پتی شخصیات سب سے زیادہ متاثر

Web Desk

31 December 2025

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکا اور بھارت کے باہمی تعلقات اس وقت تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور معاشی فاصلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکا اور بھارت کے تعلقات میں سرد مہری کا براہِ راست اثر بھارتی ارب پتی شخصیات پر بھی پڑا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی ارب پتیوں کی جانب سے امریکی لابنگ فرمز پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے جانے کے باوجود امریکا کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات قائم نہ ہو سکے۔ گوتم اڈانی کے خلاف مقدمات سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوا ہے کہ ذاتی روابط اور مہنگی لابنگ امریکی قانونی اور پالیسی ترجیحات پر اثر انداز نہیں ہو پا رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کی پالیسیوں، خطے میں بڑھتی کشیدگی اور امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلیوں کے باعث واشنگٹن نے نئی دہلی سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے، جس کے اثرات سیاسی، معاشی اور سفارتی سطح پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق بھارت کی داخلی پالیسیوں میں ہندوتوا پر مبنی اقدامات اور غیر یقینی خارجہ حکمت عملی نے امریکا میں بھارت کے بارے میں شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے، جس کے باعث واشنگٹن اب بھارت کو وہ قابلِ اعتماد اتحادی نہیں سمجھتا جو ماضی میں تصور کیا جاتا تھا۔ اگرچہ امریکا نے ماضی میں بھارت کو چین کے مقابل ایک اہم شراکت دار قرار دیا تھا، تاہم موجودہ کشیدگی اور پالیسی تضادات نے اس تصور کو کمزور کر دیا ہے۔

اخبار نے مزید لکھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ علاقائی کشیدگی کے خدشات نے بھی امریکی تحفظات میں اضافہ کیا ہے۔ اس سرد مہری کے اثرات بھارتی معیشت، بڑی کاروباری کمپنیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر بھی پڑ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جہاں تجارتی خسارہ، ٹیکنالوجی تک رسائی اور ٹیرف سے متعلق اختلافات مجموعی کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔