LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران پر پابندیاں ختم ہونے سے پٹرول سستا ہونے کی امید ہے: رانا ثنا اللہ مولانا زیرک سیاستدان، اسمبلی میں بیان دے کر ان سے غلطی ہوئی: رانا تنویر حسین وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ: حتمی فیصلوں کو بار بار چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کراچی، حیدرآباد سمیت سندھ کے 14 شہروں کے ماسٹر پلان پر کام جاری ہے: مراد علی شاہ امریکی فوج کا 2 ماہی گیر کشتیوں پر مبینہ حملہ، 4 افراد متاثر ہوئے: ایرانی میڈیا دشمن نے دوبارہ حملہ کیا تو جواب کے اختتام کا وقت ایران خود طے کرے گا: مجتبیٰ خامنہ ای پوپ لیو امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے تاریخ کے پہلے پوپ بن گئے قطر کا پاکستانیوں کے لیے 30 دن کے مفت سیاحتی ویزے کا اعلان افغان حکومت اپنی سرزمین دہشت گردوں کو استعمال کرنے دے رہی ہے: پاکستان بھارت سے سندھ طاس معاہدے پر قانونی جنگ جاری رکھیں گے: اٹارنی جنرل پاکستان نے اسلامی دنیا کو نئی راہ دکھائی، غیرملکی اڈے حفاظت نہیں کر سکتے: خواجہ آصف گورنر راج اور ایمرجنسی نہ لگاتے تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان ہو سکتا تھا: وزیراعظم سندھ ہائیکورٹ کا پارک پر تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات ختم کرنے کا حکم پولینڈ میں آئینی عدالت کا سربراہ معطل، پولیس کا ایوان عدل پر قبضہ، شہریوں کا احتجاج مریم نواز سے فرانسیسی سفیر کی ملاقات، پنجاب میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق

امریکا کی یوکرین کو اربوں ڈالر کے 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری

Web Desk

31 October 2026

امریکی محکمہ خارجہ نے یوکرین کے لیے ایک بڑے دفاعی پیکج کی منظوری دیتے ہوئے اسے 2 ارب 10 کروڑ ڈالر مالیت کے 500 پیٹریاٹ پی اے سی تھری (Patriot PAC-3) میزائل فروخت کرنے کا گرین سگنل دے دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دفاعی نظام کے یہ جدید میزائل کینیڈا، جرمنی اور ناروے کی مالی معاونت کے علاوہ یورپی یونین کے ’یوکرین سپورٹ لون‘ کے تحت فراہم کیے جانے والے فنڈز کے ذریعے خریدے جائیں گے۔ بیان میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ ان اتحادی ممالک کی جانب سے یہ مالی معاونت امریکی ’جے یو ایم پی سٹارٹ‘ (JUMPSTART) پروگرام کے تحت فراہم کی جائے گی۔

دوسری جانب، ان اہم میزائلوں کی فراہمی میں ہونے والی تاخیر کے باعث یوکرین اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں کچھ کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے رواں ہفتے اپنے ایک بیان میں شکوہ کیا تھا کہ یوکرین ان اہم دفاعی میزائلوں کی فراہمی کے لیے امریکی منظوری کا طویل عرصے سے یعنی تقریباً ایک ماہ سے انتظار کر رہا ہے، جبکہ اس دوران روس نے یوکرین کے توانائی کے نظام اور اہم شہری تنصیبات پر اپنے فضائی حملے نمایاں طور پر تیز کر دیے ہیں۔

صدر زیلنسکی نے امریکہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ موسمِ سرما کی آمد سے قبل فضائی دفاعی میزائلوں کی ترسیل کو فوری طور پر تیز کیا جائے۔ ادھر دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مختلف اتحادی ممالک کو بڑی تعداد میں ہتھیاروں کی فراہمی اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی کارروائیوں کے دوران اسلحے کے مسلسل استعمال کی وجہ سے اہم امریکی دفاعی میزائلوں کے اپنے ذخائر کم ہونے سے متعلق خدشات بھی تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔