LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
راولپنڈی میں15روز کیلیے دفعہ 144نافذ، اڈیالہ اور اطراف کا علاقہ ریڈزون قرار ایک ہفتے میں عمران خان کا علاج اورملاقات نہ ہوئی توپارلیمنٹ نہیں چلنے دینگے، محموداچکزئی آبنائے ہرمزکھولنےکیلیےپروجیکٹ فریڈم وسیع پیمانے پر بحال کرسکتے ہیں، ٹرمپ  صدر زرداری سے وزیرِاعظم شہبازشریف کی ملاقات، صدر کی عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت برطانیہ نے ایران سےتعلق رکھنے والے 12افراد اوراداروں پرپابندیاں عائد کردیں آئی پی پیزکو آئندہ کےلیے دفن کردیا، بجلی سستی کرنے جارہےہیں، اویس لغاری ایرانی وزیرخارجہ کا سعودی ہم منصب سے رابطہ، پاکستان کی ثالثی میں سفارتی عمل پر گفتگو سعودی وزیرخارجہ کا ڈار سے رابطہ، خطے میں امن کیلیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی یقین دہانی بنوں حملہ: پاکستان کا افغان ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج، ڈی مارش کر دیا کچے سے چولستان تک ریلیف: مریم نواز کی زیرِ صدارت پنجاب کابینہ کے 34ویں اجلاس میں بڑے فیصلوں کی منظوری پیٹرول زیادہ مہنگا ہونے کہ وجہ 117 روپے فی لیٹر لیوی کا نفاذ ہے، حکام پیٹرولیم ڈویژن حکومت اور اپوزیشن میں رابطے، وزیراعظم کی محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کی دعوت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی کارروائی، خودکش بمبار خاتون گرفتار غیر معقول امریکی مطالبات قبول نہیں، ضرورت پڑی تو بھرپور جواب دیا جائے گا: ایرانی وزارت خارجہ پنجاب حکومت کا مدارس رجسٹریشن ایکٹ میں ترامیم لانے کا فیصلہ

برطانیہ نے ایران سےتعلق رکھنے والے 12افراد اوراداروں پرپابندیاں عائد کردیں

Web Desk

11 May 2026

 

برطانیہ نے ایران سے وابستہ 12 افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ افراد برطانیہ اور دیگر ممالک میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

برطانوی دفترِ خارجہ نے بتایا کہ ان افراد اور اداروں پر عائد پابندیوں کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، بیرونِ ملک مشکوک سرگرمیوں اور برطانیہ کے خلاف مبینہ خطرات کو روکنا ہے۔

برطانوی دفترخارجہ کے بیان کے مطابق  عائد کی گئی پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندیاں اور بعض افراد کے لیے کمپنی ڈائریکٹر بننے پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

برطانیہ کے موجودہ قوانین کے تحت برطانوی شہریوں، کمپنیوں اور اداروں کو پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد یا تنظیموں کو مالی یا تجارتی سہولت فراہم کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی ایران سے منسلک نیٹ ورکس اور پراکسی گروہوں کی سرگرمیوں کے خلاف کی گئی ہے جن پر یورپ میں حملوں اور خفیہ آپریشنز میں ملوث ہونے کے شبہات ہیں۔

حالیہ مہینوں میں برطانیہ میں یہودی عبادت گاہوں، کمیونٹی مراکز اور دیگر مقامات پر حملوں اور آتش زنی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جن کے پیچھے بعض ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کا شبہ ظاہر کیا گیا۔

برطانوی حکومت اس سے قبل متعدد باردعویٰ کرچکی ہے کہ ایران سے وابستہ عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے جرائم پیشہ افراد کو بھرتی کرکے تخریب کاری، جاسوسی اور حملوں کی کوششیں کر رہے ہیں۔