LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہمارے اثاثوں کو نشانہ بنایا تو امریکی اثاثے بھی محفوظ نہیں رہیں گے: ایران کا دو ٹوک مؤقف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مئی کے بعد کم ترین سطح پر آگئی امریکی معاشی جنگ صرف ایران نہیں پوری عالمی برادری کیخلاف ہے: اسماعیل بقائی برنہم اور ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق عوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی کے احتجاج و لانگ مارچ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر نئے صوبے بننے چاہئیں، باؤنڈری کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز

سٹینفورڈ اور ایم آئی ٹی کی بڑی کامیابی: ہوا سے پینے کا پانی بنانے والا جدید ہائیڈروجل تیار

Web Desk

16 May 2026

سٹینفورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے ایک اہم سائنسی پیشرفت کرتے ہوئے ایسا جدید اور پائیدار ہائیڈروجل تیار کیا ہے جو فضا میں موجود نمی کو جذب کرکے سورج کی روشنی کی مدد سے پینے کے قابل پانی میں تبدیل کر سکتا ہے۔

محققین کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی خاص طور پر ان علاقوں کے لیے اہم ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہے اور روایتی آبی ذرائع محدود ہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 2.1 ارب افراد اب بھی محفوظ پینے کے پانی سے محروم ہیں۔

یہ ہائیڈروجل لیتھیم کلورائیڈ اور پولی ایکرائیلامائیڈ پر مشتمل ایک اسپنج نما مادہ ہے، جس میں لیتھیم کلورائیڈ ہوا سے نمی جذب کرتا ہے جبکہ پولی ایکرائیلامائیڈ مختلف صنعتی اور طبی مصنوعات میں استعمال ہونے والا پولیمر ہے۔

یہ مواد ہوا میں موجود آبی بخارات کو جذب کرتا ہے اور جب اس پر سورج کی حرارت پڑتی ہے تو یہ نمی دوبارہ بخارات کی صورت میں خارج ہوتی ہے، جسے بعد میں گاڑھا کرکے پینے کے قابل پانی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

ابتدائی تجربات میں یہ ٹیکنالوجی چلی کے خشک علاقے میں کامیاب رہی، تاہم پرانے ماڈل میں صرف 30 بار استعمال کے بعد خرابی پیدا ہو جاتی تھی۔

چار سالہ تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ دھاتی سطح سے خارج ہونے والے آئنز ہائیڈروجل کو نقصان پہنچا رہے تھے، جس کا حل اینٹی کورروژن کوٹنگ کی صورت میں نکالا گیا۔ اس کے بعد یہ نظام 190 سے زائد سائیکلز تک مستحکم رہا۔

یہ تحقیق 7 مئی کو معروف سائنسی جریدے میں شائع ہوئی، جس کے مطابق مستقبل میں اس طریقے سے پانی کی لاگت ایک سینٹ فی لیٹر سے بھی کم ہو سکتی ہے۔