LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی این ڈی ایم اے کا دریاؤں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا الرٹ جاری امریکہ میں شدید بارشوں کی تباہ کاری، نیو جرسی میں ہول سیل اسٹور کی چھت گر گئی، نیویارک سمیت کئی علاقوں میں طوفانی سیلاب کی وارننگ نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام

سٹینفورڈ اور ایم آئی ٹی کی بڑی کامیابی: ہوا سے پینے کا پانی بنانے والا جدید ہائیڈروجل تیار

Web Desk

16 May 2026

سٹینفورڈ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے ایک اہم سائنسی پیشرفت کرتے ہوئے ایسا جدید اور پائیدار ہائیڈروجل تیار کیا ہے جو فضا میں موجود نمی کو جذب کرکے سورج کی روشنی کی مدد سے پینے کے قابل پانی میں تبدیل کر سکتا ہے۔

محققین کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی خاص طور پر ان علاقوں کے لیے اہم ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہے اور روایتی آبی ذرائع محدود ہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 2.1 ارب افراد اب بھی محفوظ پینے کے پانی سے محروم ہیں۔

یہ ہائیڈروجل لیتھیم کلورائیڈ اور پولی ایکرائیلامائیڈ پر مشتمل ایک اسپنج نما مادہ ہے، جس میں لیتھیم کلورائیڈ ہوا سے نمی جذب کرتا ہے جبکہ پولی ایکرائیلامائیڈ مختلف صنعتی اور طبی مصنوعات میں استعمال ہونے والا پولیمر ہے۔

یہ مواد ہوا میں موجود آبی بخارات کو جذب کرتا ہے اور جب اس پر سورج کی حرارت پڑتی ہے تو یہ نمی دوبارہ بخارات کی صورت میں خارج ہوتی ہے، جسے بعد میں گاڑھا کرکے پینے کے قابل پانی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

ابتدائی تجربات میں یہ ٹیکنالوجی چلی کے خشک علاقے میں کامیاب رہی، تاہم پرانے ماڈل میں صرف 30 بار استعمال کے بعد خرابی پیدا ہو جاتی تھی۔

چار سالہ تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ دھاتی سطح سے خارج ہونے والے آئنز ہائیڈروجل کو نقصان پہنچا رہے تھے، جس کا حل اینٹی کورروژن کوٹنگ کی صورت میں نکالا گیا۔ اس کے بعد یہ نظام 190 سے زائد سائیکلز تک مستحکم رہا۔

یہ تحقیق 7 مئی کو معروف سائنسی جریدے میں شائع ہوئی، جس کے مطابق مستقبل میں اس طریقے سے پانی کی لاگت ایک سینٹ فی لیٹر سے بھی کم ہو سکتی ہے۔