LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بین الاقوامی مسافروں کے لیے ڈیجیٹل ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کا پہلا مرحلہ کراچی ایئرپورٹ پر شروع مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے خاتمہ کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں: عاصم افتخار سویڈن پارلیمانی انتخابات، ابتدائی نتائج کے مطابق بائیں بازو کی جماعتیں آگے شمالی کوریا کا اپنے مشرقی ساحل سے سمندر کی جانب متعدد بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ روس نے مسافر ٹرین کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا، یوکرینی ریلوے حکام کا دعویٰ ایران کا اقوام متحدہ سے اسرائیلی جرائم کیخلاف فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان سکیورٹی معاہدے پر مذاکرات آئندہ ماہ اٹلی میں ہوں گے حوثیوں کا یمن کے تعز اور صعدہ کے علاقوں میں سعودی فضائی حملوں کا دعویٰ یمی سرحد سے متصل 2 علاقوں سے حملوں کا خدشہ، سعودی شہریوں کو خبردار کر دیا گیا ایران کے سخت گیر دھڑے نے امریکا کیساتھ جون میں طے پانے والا امن معاہدہ سبوتاژ کیا، امریکی اخبار ایران نے جنگ شروع نہیں کی، امریکی و اسرائیلی جارحیت کیخلاف دفاع پر مجبور ہوا، صدر مسعود پزشکیان ایران کے علاقے سیرک میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں، ایرانی میڈیا سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا رواں مالی سال کا دوسرا اجلاس آج ہوگا ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکرات کیلئے آج عمان میں ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا زیلنسکی کا توانائی تنصیبات پر جوابی حملوں کا بیان کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہے، کریملن

روس نے مسافر ٹرین کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا، یوکرینی ریلوے حکام کا دعویٰ

Web Desk

14 September 2026

روس نے یوکرین اور پولینڈ کی سرحد کے انتہائی قریب ایک مسافر ٹرین کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا ہے، تاہم بروقت کارروائی کے باعث تمام مسافر محفوظ رہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یوکرینی ریلوے حکام کے مطابق یہ حملہ پولینڈ کی سرحد سے محض 2 کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا، جہاں ڈرون نے اس اہم ریلوے روٹ کو نشانہ بنایا جو کیف سے یورپ واپس جانے والے غیر ملکی سفارتی وفود کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

سنسنی خیز انکشافات کے مطابق اس حملے سے چند منٹ قبل سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن، سابق سویڈش وزیراعظم کارل بلڈٹ اور دیگر اعلیٰ یورپی شخصیات اسی روٹ سے ایک سفارتی ٹرین کے ذریعے یورپ روانہ ہوئی تھیں۔ جس مسافر ٹرین کو نشانہ بنایا گیا، وہ سفارتی ٹرین کے کچھ ہی دیر بعد روانہ ہوئی تھی، تاہم ڈرون کو قریب آتے دیکھ کر ٹرین کو فوراً خالی کرا لیا گیا۔ یوکرینی ریلوے آپریٹر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ روسی ڈرون کا اصل ہدف وہی سفارتی ٹرین تھی، جو ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر اپنے مقررہ ٹائم ٹیبل سے پہلے ہی روانہ کر دی گئی تھی۔