LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خیبر پختونخوا میں وسائل سے زیادہ مسائل، دہشتگردی کے خلاف متحد ہونا پڑے گا: طارق فضل چودھری وزیراعظم دہشتگردی کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کیلئے تیار ہیں: رانا ثنا ملتان: مزدور نوجوان کو گاڑی سے کچلنے کا کیس، ملزم توقیر عباس کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، پیشی پر وکلاء کا تشدد اسحاق ڈار کی تاجک صدر سے ملاقات، علاقائی اقتصادی تعاون کے فروغ پر زور عالمی و مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں کمی، چاندی کا بھاؤ مستحکم تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں اہم پیشرفت، امریکی منڈیوں تک رسائی بڑھانے پر اتفاق مالدیپ کی وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد، صدر بھی آج پاکستان پہنچیں گے 13 سال کا گند تین دن میں صاف نہیں ہو سکتا، وقت لگے گا: فیصل کریم کنڈی امریکی پابندیوں کے باوجود عالمی فوجداری عدالت انسانی حقوق ایوارڈ کے لیے نامزد ہڈیوں کی کمزوری کی تشخیص اور علاج بارے شعور اجاگر کرنا ضروری ہے: مریم نواز پشاور ہائیکورٹ: گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ای پاسپورٹس کے لازمی اجراء کی تاریخ میں توسیع امریکی وزیرِ جنگ نے اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ کیا اور نیتن یاہو سے ملاقات کی: ایگزیوس وزیراعظم شہباز شریف کا آج ہونے والا پشاور کا دورہ منسوخ

روسی فوج کا یوکرین پر بڑا فضائی حملہ، دفاعی و توانائی تنصیبات نشانے پر

Web Desk

24 September 2026

روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے رات گئے ایک وسیع النطاق ڈرون حملے میں یوکرین کی دفاعی صنعتی تنصیبات، توانائی کے اہم مراکز، لاجسٹک ہبز اور عسکری مقصد کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ماسکو انتظامیہ کے مطابق ان حملوں میں دارالحکومت کیف کے قریب ڈرونز کی تیاری کے سامان کے گودام، ‘ٹوکانس ایل ایل سی’ نامی انڈسٹریل یونٹ، اودیسا کے تین بڑے ملٹری لاجسٹک سنٹرز اور اودیسا پورٹ کی طرف جانے والے ایک ڈرائی کارگو عسکری جہاز کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب یوکرینی حکام اور مقامی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ ان روسی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کیف، پولتاوا، خارکوف، اودیسا اور بوچا سمیت متعدد علاقوں میں شہری و تجارتی بنیادی ڈھانچے، پیٹرول پمپوں، ریلوے اسٹیشنز اور پیداواری یونٹس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یوکرینی وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ پاور گرڈز پر حملوں کے باعث کیف، سومی، خارکوف اور زاپوریژیا ریجنز میں بجلی کی فراہمی جزوی طور پر معطل ہو گئی ہے جبکہ اودیسا میں وسیع آگ پر قابو پانے کے لیے پڑوسی اضلاع سے فائر فائٹرز بلائے گئے ہیں۔ دونوں فریقین کے ان متضاد اور بھاری نقصانات کے دعووں کی اب تک کسی آزاد عالمی ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔