LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کراچی جناح ائیرپورٹ: امیگریشن کاونٹرز پر عملہ غائب ، مسافر پریشان لندن کے پہلے مسلم میئر صادق خان کا رمضان کے استقبال پر خصوصی اعلان بھارتی پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع متحدہ عرب امارات نے رمضان میں 3 ہزار سے زائد قیدیوں کی رہائی کا اعلان کر دیا وزیراعظم شہباز شریف آج واشنگٹن میں غزہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کریں گے پاکستان میں رمضان المبارک کا چاند نظرآگیا، کل پہلا روزہ ہوگا امن کی ضمانت نہ ملی تو افغانستان میں فضائی کارروائی سے نہیں ہچکچائیں گے، خواجہ آصف ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، پاکستان نمیبیاکو شکست دے کر سپر8مرحلے میں پہنچ گیا ملکی تجارت کو بڑا دھچکا، سات ماہ میں برآمدات 35.21 فیصد تک گر گئیں عدم اعتماد صرف میں لا سکتا، کامیاب کرانا بھی جانتا ہوں: صدر مملکت اپوزیشن اتحاد کا پارلیمنٹ ہاؤس میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان پنجاب حکومت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کیخلاف اپیلیں واپس لے لیں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں 20 فیصد سالانہ اضافہ پنجاب کو منشیات سے پاک کرنا وزیراعلیٰ مریم نواز کا مشن ہے: عظمیٰ بخاری فتنہ الہندوستان کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے: مولانا عبدالخبیر آزاد

پاکستان میں رمضان المبارک کا چاند نظرآگیا، کل پہلا روزہ ہوگا

Web Desk

18 February 2026

پاکستان میں رمضان المبارک  1447ہجری کا چاند نظرآگیا۔پہلا روزہ جمعرات 19فروری 2026 کو ہوگا۔ ماہ رمضان کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں ہوا۔اجلاس کی صدارت چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے کی۔اجلاس کے بعد مولانا عبدالخبیر آزاد نے چاند نظرآنےکا باضابطہ اعلان کیا۔۔انہوں نے کہاکہ انہوں نے بتایا کہ پشاور، کوئٹہ، بونیر، کراچی اور دیگر مقامات سے چاند دیکھنے کی مصدقہ شہادتیں موصول ہوئی ہیں، ملک بھر میں رمضان المبارک 1447 ہجری کا چاند نظر آگیاہے اور 19 فروری بروز جمعرات کو پہلا روزہ ہوگا۔

پشاورمیں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کے علاوہ  کراچی، کوئٹہ، اسلام آباد، راولپنڈی اورلاہور سمیت دیگر شہروں  میں بھی زونل کمیٹیوں کے اجلاس ہوئے، جہاں سے چاند کی رویت سے متعلق شہادتیں جمع کر کے مرکزی کمیٹی کو بھیجی گئیں۔مرکزی اجلاس میں کمیٹی کے ارکان کے علاوہ  محکمہ موسمیات، اسپارکو اور وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔