LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس پر تشدد کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر فرد جرم کی تاریخ مقرر ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے: آئینی عدالت 4 اکتوبر کا لانگ مارچ فی الحال حتمی ہے، مگر حالات کے مطابق فیصلے کا حق رکھتے ہیں: سینیٹر علی ظفر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری نیتن یاہو نے اماراتی صدر کی دعوت پر ابوظہبی کا دورہ کیا: اسرائیلی وزیراعظم دفتر حافظ نعیم سے منسوب لغو بات پھیلائی جا رہی ہے: لیاقت بلوچ قطر نے ہمارے مؤقف سے امریکا کو آگاہ کر دیا، اب جواب کا انتظار ہے: عراقچی پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی عائد سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے: مولانا طاہر اشرفی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل امریکا، اسرائیل کی ایران کو پسماندگی میں دھکیلنے کی کوشش ناکام ہوگئی: ایرانی سپریم لیڈر ٹرمپ کی ایران کو پابندیوں میں ریلیف اور منجمد اثاثوں کی پیشکش کی تردید

صدر آصف زرداری کا این ڈی یو کا دورہ،ورکشاپ کے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں

Web Desk

29 November 2025

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے 27ویں ایڈیشن کے شرکا سے خطاب کیا

ورکشاپ میں اراکینِ پارلیمنٹ، سینئر سول و عسکری افسران، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ این ایس ڈبلیو 27 کا مقصد جامع قومی سلامتی کے فریم ورک کے تحت قومی طاقت کے مختلف عناصر کے باہمی تعلق اور کردار کے بارے میں شرکا کی سمجھ کو مزید گہرا کرنا تھا۔اپنے خطاب میں صدرِ پاکستان نے ورکشاپ کی کامیاب تکمیل پر شرکا کو مبارکباد دی اور قومی سلامتی سے متعلق آگہی بڑھانے کے لیے ان کی لگن کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کو درپیش موجودہ سکیورٹی چیلنجز کے حل کے لیے باخبر قیادت، قومی یکجہتی اور مربوط پالیسی سازی کی اہمیت پر زور دیا۔صدر نے کہا کہ این ڈی یو کی نیشنل سکیورٹی ورکشاپ قومی سطح پر مکالمے کے فروغ، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے اور قومی سلامتی کے حوالے سے ہمہ گیر قومی حکمتِ عملی کو مضبوط بنانے کے لیے ملک کے نمایاں ترین پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے۔
آخر میں صدرِ پاکستان نے ورکشاپ مکمل کرنے والے شرکا میں اسناد بھی تقسیم کیں