LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولینڈ کے شہر کراکوف میں مسلح شخص کی فائرنگ سے 6 افراد ہلاک، 15 زخمی ایران نے میزائل اور ڈرون کی پیداواری لائنیں زیر زمین منتقل کر دیں، پاسداران انقلاب ایران کو روس سے جدید ایس 400 ائیر ڈیفنس سسٹم ملنے کا امکان، معاہدہ طے پا گیا وزیراعلیٰ پنجاب کے دورہ لندن کے اخراجات کی تفصیل دی جائے، پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا جمع افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے ذاتی محافظ کو قتل کردیا گیا روس نے ایک دن میں یوکرین کے 903 ڈرونز اور 4 نیپچون میزائل مار گرائے، وزارت دفاع دبئی کے پرفیوم برانڈ نے گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ایران امریکا کشیدگی سفارتکاری سے حل کرنے پر زور جے ڈی وینس نے آئندہ الیکشن کیلئے الگ سیاسی بیانیہ تشکیل دینے کی کوششیں تیز کر دیں ایران کے جزیرے قشم میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں نیتن یاہو وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر، گادی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کی دعوت سندھ میں تعلیم کا بجٹ 601 ارب روپے، صورتحال تسلی بخش نہیں: حافظ نعیم الرحمان ایران پر دوبارہ حملہ کیا تو امریکا کو تباہ کن جواب دیں گے: محسن رضائی ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیے 300 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ فرانس میں یونینز اور طلبہ تنظیموں کا ایک اور احتجاجی مظاہرے کا اعلان

صدر آصف زرداری کا این ڈی یو کا دورہ،ورکشاپ کے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں

Web Desk

29 November 2025

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے 27ویں ایڈیشن کے شرکا سے خطاب کیا

ورکشاپ میں اراکینِ پارلیمنٹ، سینئر سول و عسکری افسران، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ این ایس ڈبلیو 27 کا مقصد جامع قومی سلامتی کے فریم ورک کے تحت قومی طاقت کے مختلف عناصر کے باہمی تعلق اور کردار کے بارے میں شرکا کی سمجھ کو مزید گہرا کرنا تھا۔اپنے خطاب میں صدرِ پاکستان نے ورکشاپ کی کامیاب تکمیل پر شرکا کو مبارکباد دی اور قومی سلامتی سے متعلق آگہی بڑھانے کے لیے ان کی لگن کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کو درپیش موجودہ سکیورٹی چیلنجز کے حل کے لیے باخبر قیادت، قومی یکجہتی اور مربوط پالیسی سازی کی اہمیت پر زور دیا۔صدر نے کہا کہ این ڈی یو کی نیشنل سکیورٹی ورکشاپ قومی سطح پر مکالمے کے فروغ، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے اور قومی سلامتی کے حوالے سے ہمہ گیر قومی حکمتِ عملی کو مضبوط بنانے کے لیے ملک کے نمایاں ترین پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے۔
آخر میں صدرِ پاکستان نے ورکشاپ مکمل کرنے والے شرکا میں اسناد بھی تقسیم کیں