کم عمری کی شادی کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر
Web Desk
6 November 2026
خیبر پختونخوا میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم قانونی عمر 16 سال سے بڑھا کر 18 سال مقرر کرنے کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں ایک اہم آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم عمل دو کم عمر بچیوں کی جانب سے دائر کی گئی اس آئینی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم قانونی عمر اب بھی 16 سال ہے، جبکہ اس کے برعکس پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں قانون سازی کے ذریعے یہ حد 18 سال مقرر کی جا چکی ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت عالیہ سے استدعا کی ہے کہ وہ صوبائی حکومت کو کم عمری کی شادی کی روک تھام اور لڑکیوں کے لیے 18 سال کی حد طے کرنے کے لیے فوری قانون سازی کی ہدایت جاری کرے۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف حکومتی وعدوں کے باوجود صوبے میں اس معاملے پر جامع قانون سازی نہیں ہو سکی۔ یونیسف (UNICEF) کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 21 فیصد لڑکیوں کی شادی 18 سال سے کم عمر میں کر دی جاتی ہے، جس کے ان کی تعلیم، ذہنی و جسمانی صحت اور مستقبل پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ درخواست گزاروں نے زور دیا کہ بچیوں کے بنیادی انسانی و آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اور یکساں قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
متعلقہ عنوانات
گورنر خیبرپختونخوا کا پشاور سے لاہور براہِ راست فضائی سروس شروع کرنے کا اعلان
6 November 2026
خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ
6 November 2026
پشاور: حیات آباد میں نادرا کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر فہد فائرنگ سے جاں بحق
6 November 2026
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اپنے مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا: رانا ثناء اللہ
6 November 2026
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان لائیو سٹاک شعبے میں اہم پیشرفت
6 November 2026
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے سوڈانی وزیر داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
6 November 2026
بلاول بھٹو کی لاڑکانہ کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت
6 November 2026
پاکستان اور روس کے درمیان بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کیخلاف اہم معاہدہ
6 November 2026