LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر: مشترکہ اعلامیے میں “چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ” کے قیام بڑی کامیابی توحید ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، خطبہ حج امریکا کو خطے میں مزید اڈے قائم کرنے کا موقع نہیں ملے گا: مجتبیٰ خامنہ ای پنجاب میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران شدید ہیٹ ویو کا خدشہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے مریم نواز کی اے آئی آئی بی کو ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں شراکت داری کی پیشکش پاکستان اور چین کا تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن، قطر میں بات ہوئی ہے: امریکی وزیر خارجہ چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ وزیراعظم کی چینی وفود سے ملاقاتیں، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا عزم لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا ملک بھر میں بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ

ایران سے ہزاروں پاکستانیوں کی وطن واپسی

Web Desk

11 April 2026

ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے، جس کے تحت اب تک ہزاروں افراد مختلف سرحدی راستوں سے پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ سرکاری حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 42 دنوں کے دوران گبد ریمدان بارڈر کے ذریعے 3,073 افراد وطن واپس آئے، جبکہ تفتان بارڈر کے راستے 28 فروری سے اب تک 10,619 افراد پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر دونوں اہم سرحدی گزرگاہوں سے اب تک 13,692 پاکستانی شہری اپنے ملک پہنچ چکے ہیں۔

وطن واپس آنے والوں میں طلبہ، زائرین، سی مین (Seamen)، مزدور، تاجر اور ایران و عمان میں مقیم دیگر پاکستانی شامل ہیں۔ سرحدی حکام کا کہنا ہے کہ واپس آنے والے تمام افراد کی سہولت کے لیے امیگریشن کے عمل کو تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام مسافروں کی دستاویزات کی جانچ پڑتال اور کلیئرنس کو بروقت مکمل کیا جا رہا ہے تاکہ سرحدی نظام کو منظم رکھا جا سکے اور شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس بڑے پیمانے پر واپسی کو خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔