LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خطے کی کشیدگی سے نمٹنے کے لئے مکمل تیاری رکھیں: وزیراعظم محسن نقوی کا بوئنگ ہیڈکوارٹرز کا دورہ، پی آئی اے کیلئے 16 نئے طیاروں پر پیش رفت اسحاق ڈار 2 روزہ سرکاری دورے پر شنگھائی پہنچ گئے پاکستان کا جاپانی سفیر کو ڈی مارش، مشترکہ اعلامیے پر احتجاج پنجاب حکومت خوابوں کی تعبیر تک نوجوانوں کا ساتھ دے گی: مریم نواز آبنائے ہرمز سرخ لکیر، خطے میں امریکی تنصیبات تباہ کر دیں گے: ایرانی افواج ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں: پاکستان نیب ترامیم کیس: ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ کیا اب ایم اے پاس افراد سوئیپر بنیں گے؟ آئینی عدالت کے ریمارکس نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی سہولتی اراضی کا استعمال تبدیل کرنے پر پابندی ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے زمینی فوج نہیں اتاریں گے: جے ڈی وینس پنجاب کے 5 اضلاع میں گرین الیکٹرک بس سروس کا باقاعدہ افتتاح الیکشن کمیشن کا عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین، آئین میں تبدیلیوں کا فیصلہ لیبیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 50 اموات کا خدشہ ایران نے امریکا کے حملوں کے باوجود امریکی خاتون رہا کر دی، ٹرمپ کا خیرمقدم

ایران سے ہزاروں پاکستانیوں کی وطن واپسی

Web Desk

11 April 2026

ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے، جس کے تحت اب تک ہزاروں افراد مختلف سرحدی راستوں سے پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ سرکاری حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 42 دنوں کے دوران گبد ریمدان بارڈر کے ذریعے 3,073 افراد وطن واپس آئے، جبکہ تفتان بارڈر کے راستے 28 فروری سے اب تک 10,619 افراد پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر دونوں اہم سرحدی گزرگاہوں سے اب تک 13,692 پاکستانی شہری اپنے ملک پہنچ چکے ہیں۔

وطن واپس آنے والوں میں طلبہ، زائرین، سی مین (Seamen)، مزدور، تاجر اور ایران و عمان میں مقیم دیگر پاکستانی شامل ہیں۔ سرحدی حکام کا کہنا ہے کہ واپس آنے والے تمام افراد کی سہولت کے لیے امیگریشن کے عمل کو تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام مسافروں کی دستاویزات کی جانچ پڑتال اور کلیئرنس کو بروقت مکمل کیا جا رہا ہے تاکہ سرحدی نظام کو منظم رکھا جا سکے اور شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس بڑے پیمانے پر واپسی کو خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔