LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، چین کے دل ایک دوسرے سے جڑے اور ایک ساتھ دھڑکتے ہیں: وزیراعظم ایف بی آر کی انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع 18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت، سندھ بہت پیچھے رہ گیا: حافظ نعیم الرحمان آبنائے ہرمز میں 4 تجارتی جہازوں پر حملے، عالمی توانائی بحران کا خدشہ ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا عراق سے امریکی افواج کا انخلا مکمل، کل ’یوم خودمختاری‘ منانے کا اعلان پاکستان کا ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران جانی نقصان پر اظہار تعزیت پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں پارلیمانی امور پر مشاورت، اجلاس میں اہم معاملات زیر غور پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے کرسچن میرج بل 2026 کی منظوری دے دی پاکستان ایس سی او سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کیلئے پرعزم ہے: اسحاق ڈار ماسکو میں عالمی مذہبی کانفرنس، پاکستان سمیت 40 ممالک کے وفود کی شرکت آئی پی پیز نے ملک کی کمر توڑ دی، سسٹم کو بدل کر ضلعی معیشت پر جانا ہوگا، ایس ایم تنویر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے وکلا کی فہرست جیل حکام کے حوالے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کی سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات، الوداعی دورہ دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ

پاکستان میں 80 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم، ایشیائی ترقیاتی بینک کی تشویشناک رپورٹ

Web Desk

8 December 2025

اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے ایشین واٹر ڈیولپمنٹ آؤٹ لک جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں 80 فیصد آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کو پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

اے ڈی بی کے مطابق پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 3,500 مکعب میٹر سے کم ہوکر صرف 1,100 مکعب میٹر رہ گئی ہے، جبکہ زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال سے آرسینک آلودگی بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ماحولیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ، ناقص مینجمنٹ اور پُرانے نظام کے باعث پانی کا بحران مسلسل شدید ہو رہا ہے، اور زرعی شعبہ سب سے زیادہ پانی ضائع کرنے والا سیکٹر ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ واٹر سیکیورٹی کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔ پاکستان میں پالیسیاں تو موجود ہیں مگر عمل درآمد کمزور اور غیر مؤثر ہے، جبکہ مالی وسائل کی شدید کمی ہے۔ آؤٹ لک کے مطابق اگلی دہائی میں 10 سے 12 کھرب روپے درکار ہوں گے لیکن موجودہ سرمایہ کاری ناکافی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2022 کے سیلاب نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا اور ملک اب بھی سیلاب و خشک سالی کے مستقل خطرات سے دوچار ہے۔ ناقص پانی و صفائی کے باعث پاکستان کو سالانہ 2.2 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، گندے پانی کا اخراج اور کمزور انفرا اسٹرکچر بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔

اے ڈی بی نے کہا کہ صنعتی شعبہ تقریباً مکمل طور پر زیرِ زمین پانی پر انحصار کرتا ہے اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت خطرناک حد تک کم ہے۔ آبی ماحولیاتی نظام مزید خراب ہو رہا ہے اور دریاؤں اور ویٹ لینڈز پر شدید دباؤ ہے۔ اگرچہ 2013 سے 2025 تک پاکستان کا واٹر سیکیورٹی اسکور 6.4 پوائنٹس بہتر ہوا ہے، تاہم اصلاحات اور بڑی سرمایہ کاری اب بھی نہایت ضروری ہیں۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پانی کے معیار کی نگرانی کے لیے ایک آزاد اتھارٹی قائم کی جائے اور حکمرانی بہتر نہ ہونے کی صورت میں ترقی غیر مساوی رہے گی۔ ایشیا بھر میں واٹر سیکیورٹی کے لیے 250 ارب ڈالر درکار ہیں، جبکہ صفائی و پانی کے منصوبوں پر موجودہ اخراجات ضرورت کا صرف 40 فیصد ہیں۔
خطے میں 2040 تک صاف پانی کے نظام کے لیے 4 ٹریلین ڈالر درکار ہوں گے۔