LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولینڈ کے شہر کراکوف میں مسلح شخص کی فائرنگ سے 6 افراد ہلاک، 15 زخمی ایران نے میزائل اور ڈرون کی پیداواری لائنیں زیر زمین منتقل کر دیں، پاسداران انقلاب ایران کو روس سے جدید ایس 400 ائیر ڈیفنس سسٹم ملنے کا امکان، معاہدہ طے پا گیا وزیراعلیٰ پنجاب کے دورہ لندن کے اخراجات کی تفصیل دی جائے، پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا جمع افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے ذاتی محافظ کو قتل کردیا گیا روس نے ایک دن میں یوکرین کے 903 ڈرونز اور 4 نیپچون میزائل مار گرائے، وزارت دفاع دبئی کے پرفیوم برانڈ نے گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ایران امریکا کشیدگی سفارتکاری سے حل کرنے پر زور جے ڈی وینس نے آئندہ الیکشن کیلئے الگ سیاسی بیانیہ تشکیل دینے کی کوششیں تیز کر دیں ایران کے جزیرے قشم میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں نیتن یاہو وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر، گادی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کی دعوت سندھ میں تعلیم کا بجٹ 601 ارب روپے، صورتحال تسلی بخش نہیں: حافظ نعیم الرحمان ایران پر دوبارہ حملہ کیا تو امریکا کو تباہ کن جواب دیں گے: محسن رضائی ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیے 300 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ فرانس میں یونینز اور طلبہ تنظیموں کا ایک اور احتجاجی مظاہرے کا اعلان

پاکستان میں 80 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم، ایشیائی ترقیاتی بینک کی تشویشناک رپورٹ

Web Desk

8 December 2025

اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے ایشین واٹر ڈیولپمنٹ آؤٹ لک جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں 80 فیصد آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کو پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

اے ڈی بی کے مطابق پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 3,500 مکعب میٹر سے کم ہوکر صرف 1,100 مکعب میٹر رہ گئی ہے، جبکہ زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال سے آرسینک آلودگی بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ماحولیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ، ناقص مینجمنٹ اور پُرانے نظام کے باعث پانی کا بحران مسلسل شدید ہو رہا ہے، اور زرعی شعبہ سب سے زیادہ پانی ضائع کرنے والا سیکٹر ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ واٹر سیکیورٹی کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔ پاکستان میں پالیسیاں تو موجود ہیں مگر عمل درآمد کمزور اور غیر مؤثر ہے، جبکہ مالی وسائل کی شدید کمی ہے۔ آؤٹ لک کے مطابق اگلی دہائی میں 10 سے 12 کھرب روپے درکار ہوں گے لیکن موجودہ سرمایہ کاری ناکافی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2022 کے سیلاب نے لاکھوں افراد کو متاثر کیا اور ملک اب بھی سیلاب و خشک سالی کے مستقل خطرات سے دوچار ہے۔ ناقص پانی و صفائی کے باعث پاکستان کو سالانہ 2.2 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، گندے پانی کا اخراج اور کمزور انفرا اسٹرکچر بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔

اے ڈی بی نے کہا کہ صنعتی شعبہ تقریباً مکمل طور پر زیرِ زمین پانی پر انحصار کرتا ہے اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت خطرناک حد تک کم ہے۔ آبی ماحولیاتی نظام مزید خراب ہو رہا ہے اور دریاؤں اور ویٹ لینڈز پر شدید دباؤ ہے۔ اگرچہ 2013 سے 2025 تک پاکستان کا واٹر سیکیورٹی اسکور 6.4 پوائنٹس بہتر ہوا ہے، تاہم اصلاحات اور بڑی سرمایہ کاری اب بھی نہایت ضروری ہیں۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پانی کے معیار کی نگرانی کے لیے ایک آزاد اتھارٹی قائم کی جائے اور حکمرانی بہتر نہ ہونے کی صورت میں ترقی غیر مساوی رہے گی۔ ایشیا بھر میں واٹر سیکیورٹی کے لیے 250 ارب ڈالر درکار ہیں، جبکہ صفائی و پانی کے منصوبوں پر موجودہ اخراجات ضرورت کا صرف 40 فیصد ہیں۔
خطے میں 2040 تک صاف پانی کے نظام کے لیے 4 ٹریلین ڈالر درکار ہوں گے۔