LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کو ایک رات میں ختم کیاجاسکتاہے، وہ منگل کی رات بھی ہوسکتی ہے، ٹرمپ کی دھمکی پنجاب، کے پی، بلوچستان، اسلام آباد، کشمیر، جی بی میں مارکیٹس رات 8بجے بندکرنے کافیصلہ بوشہرایٹمی پلانٹ پر حملے ایران اور خطے کےلیے خطرناک ہیں، عالمی جوہری توانائی ایجنسی ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، صدر یورپی کونسل حالات بہترہوتے ہی پیٹرول سستا کردیں گے، حکومت کی اتحادی جماعتوں کو یقین دہانی آپریشن وعدہ صادق 4 کی 98 ویں لہر، امریکی و اسرائیلی تنصیبات پر ایران کے مزید حملے مہنگے پیٹرول نے ہرفرد کوہلادیا،مولانا فضل الرحمان کاردعمل، جمعے کو احتجاج کا اعلان انفرااسٹرکچرپرحملوں کا فیصلہ کن اوربھرپورجواب دیں گے، ایرانی وزیرخارجہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کی تجویز مسترد کردی جنگ بندی کیلیےامریکی منصوبہ قابل قبول نہیں، ایران کا اعلان، ثالثوں کی کوششوں کےجواب میں اپنا مسودہ تیارکرلیا بچت کیلئے ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا: وزیراعظم روس اور سعودی عرب کے درمیان ویزا فری معاہدہ، 11 مئی سے نافذ العمل پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کے فروغ کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط حافظ نعیم الرحمن کا میئر کراچی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا حکم میری گورنر شپ کا ایک ایک منٹ پنجاب کے لوگوں کیلئے ہے:گورنر پنجاب

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کے فروغ کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

Web Desk

6 April 2026

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس کا مقصد دونوں برادر ممالک کے عدالتی نظام کے درمیان تجربات کا تبادلہ اور باہمی اشتراک کو فروغ دینا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقدہ اس تقریب میں چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی اور ترکیہ کی آئینی عدالت کے اعلیٰ سطح وفد سمیت دونوں ممالک کے سینئر ججز اور حکام نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ترک وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس دورے کو تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے خاص طور پر ترکیہ کے عدالتی نظام میں جدت اور مصنوعی ذہانت (AI) کے مؤثر استعمال کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بدلتی ہوئی دنیا میں عدالتی نظام تنہا کام نہیں کر سکتا، اس لیے ہمیں ایک دوسرے کے جدید تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ چیف جسٹس نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مفاہمتی یادداشت قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے اور دونوں ملکوں کی عدلیہ کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھولنے میں کلید ثابت ہوگی۔