پاکستان میں شفافیت اور احتساب پر ملک گیر سروے: 67 فیصد عوام نے بدعنوانی کا سامنا نہ ہونے کی تصدیق
Web Desk
3 February 2026
چپاکستان میں شفافیت اور احتساب کا انڈیکس۔۔۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پاکستان میں شفافیت اور احتساب پر کروئے جانے والے سروے کے نتائج جاری کردیئے، اس ملک گیر سروے میں عوام کی اکثریت سڑسٹھ فیصد نے بدعنوانی کا سامنا نہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ایف پی سی سی آئی نے پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے کروائے جانے والے ملک گیر سروے کی داغ بیل ڈال دی۔ آئی ٹیپ معروف سروے فرم آئی پی ایس او ایس سے کمیشن کیا گیا۔ سروے کا مقصد پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا انڈیکس مرتب کرنا ہے۔ ایف پی سی سی آئی سروے رپورٹ کے مطابق عوام کی اکثریت نے بدعنوانی کا مشاہدہ یا تجربہ نہ ہونے کی تصدیق کردی۔ سڑسٹھ فیصد رائے دہندگان کے مطابق انہیں کسی بھی قسم کی بدعنوانی کا تجربہ نہیں ہوا۔ تہتتر فیصد رائے دہندگان نے بتایا کہ انہیں کبھی رشوت دینے کی نوبت پیش نہیں آئی۔ شفافیت کے اشاریے میں اسلام آباد سرفہرست، پنجاب اور خیبر پختونخوا نمایاں ہے۔اینٹی کرپشن اداروں میں نیب سب سے مؤثر ادارہ سمجھا گیا۔ سرکاری اداروں میں میرٹ پر بھرتی کو سب سے مثبت اصلاح قرار دیا گیا۔ عوامی تجربات میں شفافیت کے حوالے سے سرکاری اسپتال سرفہرست رہے۔ عوامی خدمات کے معیار پر نادرا کو سب سے بہتر درجہ حاصل ہے۔