LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر: مشترکہ اعلامیے میں “چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ” کے قیام بڑی کامیابی توحید ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، خطبہ حج امریکا کو خطے میں مزید اڈے قائم کرنے کا موقع نہیں ملے گا: مجتبیٰ خامنہ ای پنجاب میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران شدید ہیٹ ویو کا خدشہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے مریم نواز کی اے آئی آئی بی کو ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں شراکت داری کی پیشکش پاکستان اور چین کا تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن، قطر میں بات ہوئی ہے: امریکی وزیر خارجہ چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ وزیراعظم کی چینی وفود سے ملاقاتیں، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا عزم لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا ملک بھر میں بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ

ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کی معیشت پر اعلیٰ سطحی پینل ڈسکشن، وزیر خزانہ کا خطاب

Web Desk

12 April 2026

امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کی معیشت پر اعلیٰ سطحی پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خصوصی خطاب کیا اور ملکی معاشی صورتحال، اصلاحات اور مستقبل کی پالیسیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا سپلائی شاک ہے، تاہم پاکستان نے توانائی کی فراہمی میں تسلسل برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی سبسڈی کے بعد توانائی کی قیمتوں کو مرحلہ وار منتقل کیا گیا ہے جبکہ ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام جاری ہے۔

محمد اورنگزیب کے مطابق بحرانوں کے باوجود پاکستان نے مجموعی معاشی صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورو بانڈ ادائیگی ایک معمول کا معاملہ ثابت ہوئی جو بیرونی مالی اعتماد کی علامت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی بندرگاہ پر ٹرانزٹ ٹریفک میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں مارچ کے دوران ریکارڈ ترسیلات زر موصول ہوئیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ترسیلات زر مستقل حل نہیں، اصل توجہ برآمدات پر ہونی چاہیے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اصل چیلنج اصلاحات پر عملدرآمد ہے، جبکہ ٹیکس نظام میں بہتری اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن کا عمل جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی شعبے کے لیے مستقل سبسڈی کا خاتمہ ضروری ہے اور عالمی منڈی سے ہم آہنگی کے لیے ٹیرف اصلاحات پر کام کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں شمسی توانائی کا حصہ 8000 میگاواٹ تک پہنچ چکا ہے جبکہ قابل تجدید توانائی میں مزید اضافہ حکومت کا ہدف ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ چاروں صوبوں میں زرعی آمدن ٹیکس سے متعلق قانون سازی مکمل ہو چکی ہے جبکہ 28 سرکاری ادارے نجکاری کے لیے متعلقہ کمیشن کو بھیجے گئے ہیں۔

انہوں نے آبادی میں اضافہ اور ماحولیاتی تبدیلی کو بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری ماحول کو بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔