LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اردن حملے میں فوجیوں کی ہلاکت پر ٹرمپ کی خاموشی ٹوٹ گئی، پینٹاگون کو پوری شدت سے ایران پر بمباری کا حکم، روسی میڈیا کا دعویٰ انمول عرف پنکی کا بھائی منشیات سمیت گرفتار ٹرمپ دو اہم سفارتی کامیابیوں کو تباہ کر کے امن کی بات کر رہے ہیں، ایرانی سفیر امریکی فوجیوں کی قربانی ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرے گی، پیٹ ہیگستھ جنگ مخالف تنظیموں کے اتحاد کا اسرائیلی مظالم کے خلاف وسطی لندن میں احتجاج خلیج عدن سے اغوا ہونیوالا بحری جہاز صومالیہ کی علاقائی سمندری حدود میں منتقل کر دیا گیا یورپی یونین اور خلیجی ممالک کا آبنائے ہرمز غیر مشروط طور پر کھولنے کا مطالبہ سعودی عرب کی کویت، بحرین اور اردن پر ایرانی حملوں کی سخت مذمت ایران کا شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا جنگی جرم ہے، سربراہ خلیج تعاون کونسل امریکا نے مفاہمت پر دستخط کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی ایران پر حملہ کر دیا، رضا عارف قومی اتحاد اور سپریم لیڈر کی رہنمائی ایران کا سب سے بڑا سرمایہ ہے، صدر پزشکیان ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی پر عمل درآمد سختی سے جاری ہے، سینٹ کام نورین نیازی کو این سی سی آئی اے کا نوٹس، 20 جولائی کو طلب کرلیا گلگت بلتستان، کے پی، آزاد کشمیر میں سیلاب کا خدشہ، الرٹ جاری ایرانی حملے میں اردن میں تعینات دو امریکی فوجی ہلاک، امریکا کی تصدیق

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا اسرائیلی جارحیت پر مذمتی قرارداد نہ پاس ہونے پر سخت ردعمل

Web Desk

10 March 2026

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ نے اسرائیلی جارحیت پر ابھی تک مذمتی قرارداد نہیں پاس کی، اور یہ صورتحال قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ دکھانا ہوگا کہ موجودہ حکومت عوام کی نمائندہ نہیں ہے۔

اپوزیشن لیڈر نے قومی حکومت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسی حکومت میں تمام پارٹیاں شامل ہوں اور موجودہ پارلیمنٹ کو عوام کا حقیقی نمائندہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ “زر اور زور کی بنیاد پر یہ پارلیمنٹ بنی ہے اور یہ حکومت موجودہ حالات میں پاکستان نہیں چلا سکتی۔”

انہوں نے خطے میں بڑھتی کشیدگی، پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور ایک روحانی پیشوا کے شہادت جیسے معاملات پر پارلیمنٹ کی خاموشی پر بھی تنقید کی۔

اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر نے واضح کیا کہ اپوزیشن اپنے تحریکیں لے کر آئے تو کنسینسس کی صورت میں یہ قراردادیں پاس ہو سکتی ہیں، اور اجلاس کے دوران پارٹیوں کے چیف وہیپ نام فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ یہ اقدام ان کی ذمہ داری ہے تاکہ پارلیمنٹ کے فیصلے عوامی توقعات کے مطابق ہوں۔