LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان نے امریکی ڈالر بینچ مارک یورو بانڈ جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا لیسکو چیف کی ترقی سے متعلق اجلاسوں کے منٹس شہری کو فراہم کرنے کا حکم برقرار ولادی ووستوک میں 11واں ایسٹرن اکنامک فورم شروع، 80 ممالک کے نمائندوں کی شرکت شنگھائی تعاون تنظیم ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کا آزاد اور بااثر مرکز بن چکی ہے، صدر پوتن پاکستان پائیدار علاقائی امن کیلئے پرعزم، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ناقابل قبول ہے: وزیراعظم امریکا اسلام آباد ایم او یو پر عمل کرے تو ایران بھی تیار ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو طبی سہولیات، اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے کی ہدایت اسلام آباد ہائیکورٹ: جیل حکام کو بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی، اہلخانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جیل قیدِ تنہائی کیخلاف درخواستیں قابلِ سماعت قرار عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ یورپی یونین واشنگٹن کے غیر قانونی اقدامات میں شریک بن چکی ہے: اسماعیل بقائی ایران تیل و گیس کی ترسیل میں خلل ڈالنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے: جے ڈی وینس آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سعودی آئل ٹینکر کو روک لیا گیا: ایرانی میڈیا وزیراعظم شہباز شریف کی شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان مملکت کے اجلاس میں شرکت

نیتن یاہو ایران پر مزید حملوں کے لیے سرگرم، ٹرمپ کی ترجیحات نظر انداز

Web Desk

27 December 2025

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اتوار کو امریکہ کے دورے پر روانہ ہوں گے جہاں ان کی ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متوقع ہے۔ اس ملاقات میں نیتن یاہو ایران کے خلاف مزید فوجی اقدامات پر زور دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس جون میں ایران کے جوہری پروگرام کو سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اس پیش رفت سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام اور ان کے امریکی اتحادی ایک بار پھر ایران کے خلاف جنگی بیانیہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ تہران کے میزائل پروگرام کا فوری سدباب ضروری ہے۔ اس بار نیتن یاہو کی توجہ خاص طور پر ایران کے میزائل پروگرام پر مرکوز ہوگی۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اور ممکنہ تصادم صدر ٹرمپ کی اعلان کردہ خارجہ پالیسی ترجیحات کے برعکس ہوگا۔ سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کے سینئر رکن سینا توسی کے مطابق ٹرمپ ایک جانب اسرائیل اور عرب ریاستوں کے درمیان معاشی تعاون اور سفارتی تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں، جبکہ دوسری جانب نیتن یاہو خطے میں فوجی بالادستی قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

سینا توسی کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف مسلسل امریکی مداخلت اور طویل جنگوں کی خواہش، جن کا مقصد ایرانی ریاست کو کمزور کرنا ہے، دراصل اسرائیل کی اس خواہش کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں اس کی غیر چیلنج شدہ بالادستی، اجارہ داری اور توسیع پسندانہ عزائم برقرار رہیں۔ ان کے مطابق یہی نیتن یاہو کے اہداف کی بنیاد ہے، اور وہ امریکہ کو اسی سمت دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

ادھر کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو نائب صدر ٹریٹا پارسی کے مطابق چونکہ صدر ٹرمپ جوہری مسئلے کو درست یا غلط طور پر حل شدہ قرار دے چکے ہیں، اس لیے اسرائیل دباؤ برقرار رکھنے کے لیے اب ایران کے میزائل پروگرام کو مرکزی مسئلہ بنا رہا ہے۔