LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

نیتن یاہو ایران پر مزید حملوں کے لیے سرگرم، ٹرمپ کی ترجیحات نظر انداز

Web Desk

27 December 2025

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اتوار کو امریکہ کے دورے پر روانہ ہوں گے جہاں ان کی ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متوقع ہے۔ اس ملاقات میں نیتن یاہو ایران کے خلاف مزید فوجی اقدامات پر زور دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس جون میں ایران کے جوہری پروگرام کو سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اس پیش رفت سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام اور ان کے امریکی اتحادی ایک بار پھر ایران کے خلاف جنگی بیانیہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ تہران کے میزائل پروگرام کا فوری سدباب ضروری ہے۔ اس بار نیتن یاہو کی توجہ خاص طور پر ایران کے میزائل پروگرام پر مرکوز ہوگی۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اور ممکنہ تصادم صدر ٹرمپ کی اعلان کردہ خارجہ پالیسی ترجیحات کے برعکس ہوگا۔ سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کے سینئر رکن سینا توسی کے مطابق ٹرمپ ایک جانب اسرائیل اور عرب ریاستوں کے درمیان معاشی تعاون اور سفارتی تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں، جبکہ دوسری جانب نیتن یاہو خطے میں فوجی بالادستی قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

سینا توسی کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف مسلسل امریکی مداخلت اور طویل جنگوں کی خواہش، جن کا مقصد ایرانی ریاست کو کمزور کرنا ہے، دراصل اسرائیل کی اس خواہش کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں اس کی غیر چیلنج شدہ بالادستی، اجارہ داری اور توسیع پسندانہ عزائم برقرار رہیں۔ ان کے مطابق یہی نیتن یاہو کے اہداف کی بنیاد ہے، اور وہ امریکہ کو اسی سمت دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

ادھر کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو نائب صدر ٹریٹا پارسی کے مطابق چونکہ صدر ٹرمپ جوہری مسئلے کو درست یا غلط طور پر حل شدہ قرار دے چکے ہیں، اس لیے اسرائیل دباؤ برقرار رکھنے کے لیے اب ایران کے میزائل پروگرام کو مرکزی مسئلہ بنا رہا ہے۔