LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
احتجاج ہمارا حق،27 ستمبر کو پوری قوت کے ساتھ نکلیں گے: سہیل آفریدی امریکا کا ایرانی صدر کی میڈیا ٹیم کو ویزے دینے سے انکار ایران پر حملے کا فیصلہ کن جواب دیں گے: جنرل امیر حاتمی اسلام آباد کنٹینروں سے بھر گیا، کسی کو احتجاج کا حق نہیں دیا جا رہا: مولانا فضل الرحمان محسن نقوی تہران پہنچ گئے، ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں متوقع امریکا ٹیک صنعت کا بڑا شراکت دار، جلد ایپل اور گول بھی پاکستان آرہے ہیں: شزہ فاطمہ دو ماہ میں ترسیلات زر 6.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں: احسن اقبال کا دعویٰ سہیل آفریدی اگر ڈیلیور نہیں کر سکتے تو گھر چلے جائیں: عطا تارڑ سٹاک مارکیٹ میں تیزی، کاروبار کا مثبت رجحان رہا ایم کیو ایم کی اتوار والی ریلی ریفرنڈم تھا، دھمکیوں سے نہیں ڈرتے : خالد مقبول صدیقی روسی اسٹیٹ ڈوما کے الیکشن: صدر پوتن کی حامی جماعت یونائیٹڈ رشیا کو واضح برتری خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی زمینی و فضائی کارروائی، 37 دہشت گرد ہلاک اسرائیلی وزیر کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا، مذہبی رسومات کی ادائیگی، سعودیہ اور قطر کی شدید مذمت شادی کی تقریب میں مضر صحت کھانا کھانے سے 400 افراد کی حالت غیر ہوگئی حوثیوں کا سعودی عرب پر 24 گھنٹوں میں 28 فضائی حملوں کا الزام

اٹلی: سکولوں میں نقاب پر پابندی، غیر ملکی طلبہ کی حد مقرر کا اعلان

Web Desk

21 September 2026

اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی (Giorgia Meloni) نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت تعلیمی اداروں میں برقع اور چہرے کے نقاب پر پابندی عائد کرنے اور ہر کلاس میں غیر ملکی طلبہ کی حد مقرر کرنے کے لیے جلد ایک بل کابینہ میں پیش کرنے جا رہی ہے۔ اپنی سیاسی جماعت ‘برادرز آف اٹلی’ کی یوتھ ونگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو بھی اٹلی میں اپنا مستقبل بنانا چاہتا ہے، اسے ہماری زبان اور ثقافت کا احترام کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اٹلی کے اسکولوں میں ہر طالب علم کو چہرہ کھلا رکھنا ہوگا اور کسی کو بھی روایات کے نام پر نوجوان خواتین کو اپنا چہرہ چھپانے پر مجبور کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

مجوزہ قانون سازی کے تحت ان غیر ملکی طلبہ کے والدین کے لیے بھی اطالوی زبان سیکھنا لازمی قرار دیا جائے گا جن کے بچوں کو اسکول سسٹم میں ڈھلنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر کلاس میں صرف ایک غیر ملکی بچہ ہو تو وہ دیگر طلبہ اور اساتذہ کی مدد سے زبان سیکھ کر تیزی سے معاشرے میں ضم ہو سکتا ہے، لیکن غیر ملکی بچوں کی اکثریت ہو جائے تو یہ انضمام نہیں بلکہ غفلت ہے۔ واضح رہے کہ تحقیقی ادارے ‘فونڈازیونے آئی ایس ایم یو’ کے مطابق اطالوی اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ میں 11.6 فیصد غیر اطالوی شہری ہیں، اور بحیرہ روم میں واقع ہونے کے باعث تارکینِ وطن کی آمد کا معاملہ اٹلی میں ہمیشہ سے ایک اہم سیاسی موضوع رہا ہے۔