LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغان سرزمین سے ڈرون حملے ناقابلِ قبول، دفاع ہمارا حق، فوری جواب دیا جائے گا: عطا تارڑ وزیراعظم کی امریکا میں اہم ملاقاتیں، نوجوانوں کو ملکی بہتری کیلئے کردار ادا کرنے کی دعوت 26 نومبر احتجاج کیس: راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت کا محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، امن و استحکام کیلئے مذاکرات پر زور نیتن یاہو نے خطے میں اجتماعی قتل کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے: ہسپانوی وزیراعظم امریکی بحریہ کے طویل مشن کے دوران آٹھ اہلکاروں کی خودکشی کی کوشش پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان، انڈیکس 186 پوائنٹس بڑھ گیا دراندازی پر سخت ردعمل، پاکستان کے افغانستان میں 10 فوجی اہداف پر حملے پاکستان نے افغان سرزمین سے ڈرونز بھیجنا ملکی خود مختاری، سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیدیا چینی صدر 3 روزہ دورے پر امریکہ پہنچ گئے، ریڈ کارپٹ استقبال، توپوں کی سلامی آبنائے ہرمز میں ایک اور مال بردار بحری جہاز کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا: برطانوی میری ٹائم امریکی فوج کی دوحہ میں حاضرسروس فوجی افسر کی ہلاکت کی تصدیق غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے فضائی حملے، 4 فلسطینی شہید اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو معاشی طور پر بھی تباہ کرنا شروع کر دیا مقبوضہ مغربی کنارے میں کار حادثہ، امریکا میں تعینات اسرائیلی سفیر کا فوجی بیٹا شدید زخمی

اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، امن و استحکام کیلئے مذاکرات پر زور

Web Desk

24 September 2026

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کے مجموعی امن و استحکام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعاون اور خطے کی بدلتی ہوئی علاقائی و بین الاقوامی صورتحال پر گفتگو کی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ موجودہ کشیدہ علاقائی ماحول میں امن اور استحکام کے فروغ کا واحد راستہ باہمی مذاکرات، موثر سفارت کاری اور مسلسل سفارتی رابطے ہیں۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تہران اور اسلام آباد کے درمیان قریبی رابطہ اور باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔