LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
دشمن کیلئے ’سرپرائز‘ تیار، حملوں پر نئی فوجی ٹیکنالوجی سے جواب دیا جائے گا: ایران پنجاب میں ٹورازم کا بے پناہ پوٹینشل ہے، مریم نواز ڈی آئی خان: درازندہ چیک پوسٹ دھماکے میں شہید 3 اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات کے بعد دوبارہ ایران پر بمباری کا امکان ظاہر کر دیا جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو بحرہند میں بھی امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنائیں گے: پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا فیصلہ مذاکراتی معاہدے سے مشروط ہے، عباس عراقچی بہاولپور: این اے 168 ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ جاری، 20 امیدوار میدان میں حوثیوں کا بچوں کو زبردستی بھرتی کر کے جنگی محاذوں پر بھیجنے کا انکشاف اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز کے باہر کشمیری امریکی کمیونٹیز کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ ایران نے فضائی پابندیوں کا جواب فوجی کارروائی سے دینے کی خبروں کی تردید کر دی مغرب یوکرین تنازع کے پُرامن حل اور مذاکرات کی بحالی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، سرگئی لاوروف نسل کشی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا، ترک صدر منگھو پیر: روشم خان کے قاتل پکڑے گئے، لواحقین کا 19 روز سے جاری دھرنا ختم یوکرین مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ روسی مفادات کو سامنے رکھ کر کریں گے، صدر پوتن حیدر آباد میں خواتین پولیس پر مشتمل خصوصی ’’نِسا اسکواڈ‘‘ تشکیل

جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو بحرہند میں بھی امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنائیں گے: پاسداران انقلاب

Web Desk

27 September 2026

ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) کی بحریہ کے شعبہ سیاسی امور کے نائب علی محمدی نے امریکہ کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر خطے میں عسکری کشیدگی یا جنگ کا دوبارہ آغاز ہوا تو ایرانی افواج نہ صرف آبنائے ہرمز بلکہ بحرِ ہند تک امریکی جنگی جہازوں اور ایئر کرافٹ کیریئرز کو بھی براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کر دیں گی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق علی محمدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر امریکی صدر واقعی آبنائے ہرمز کو اپنی ملکیت يا اپنے کنٹرول کا علاقہ سمجھتے ہیں تو امریکی بحری جہاز اور جنگی بیڑے اس شاہراہ سے غائب کیوں ہیں؟

علی محمدی نے مزید چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ عالمی سطح پر آبنائے ہرمز پر اپنے تسلط کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اپنے کسی ڈسٹرائر یا عسکری بحری جہاز کو اس سمندری علاقے کے قریب لا کر دکھانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کی سمندری حد اور صلاحیت صرف خلیج فارس تک محدود نہیں رہی بلکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں بحرِ ہند میں موجود امریکی بحری اثاثے بھی ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں ہوں گے۔