LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کی بہنوں اور بچوں کی حراست غیر قانونی ہے، شدید مذمت کرتے ہیں: شیخ وقاص اکرم سومنات کا حوالہ بار بار آنے کے لیے استعمال کیا، ہم پرامن رہیں گے: جنید اکبر کی وضاحت ایران رویہ بدلے تو مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے: مائیک والٹز علیمہ کے بعد نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی 30 روز کیلئے نظر بند اسلام آباد سومنات نہ جنید اکبر ہی محمود غزنوی، وفاق اپنا دفاع کرے گا: خواجہ آصف وزیراعظم جنرل اسمبلی میں کشمیر، فلسطین کے مسائل اٹھائیں گے: عاصم افتخار بلوچستان کے ضلع خضدار میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.5 ریکارڈ امریکا نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی یقین دہانی کرائی ہے: قطر پائیدار امن کیلئے تشدد، نفرت اور انتہا پسندی کا خاتمہ ناگزیر ہے: مریم نواز شریف ہنگو میں شہید ہونے والے فوجی افسروں اور جوانوں کی نمازِ جنازہ ادا مصر، سوڈان اور اعلیٰ امریکی حکام کے سوڈان جنگ کے خاتمے کیلئے اہم مذاکرات ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی عدالت کے خلاف مزید سخت اقدامات کی تیاری کر لی نیویارک دورے کے دوران صدر ٹرمپ کی میئر زہران ممدانی سے ملاقات متوقع کیف پر روسی ڈرون حملوں میں 3 بچوں سمیت 4 افراد ہلاک عباس عراقچی تہران سے نیویارک روانہ، قطر میں مختصر قیام

عباس عراقچی تہران سے نیویارک روانہ، قطر میں مختصر قیام

Web Desk

21 September 2026

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے تہران سے اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جاتے ہوئے قطر میں مختصر قیام کیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘ارنا’ کے مطابق عباس عراقچی نے دوحہ میں قیام کے دوران قطر کے حکام سے ملاقات کی اور خطے کی مجموعی اور پیشیدہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ واضح رہے کہ قطر اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم اور فعال ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

عباس عراقچی کا دوحہ میں یہ اہم قیام ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایرانی حکام نے ثالثوں کے ذریعے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تہران کی بنیادی شرائط سے آگاہ کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا معاملہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کا ایک مرکزی اور انتہائی حساس نقطہ بن چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے اس حکمتِ عملی پر عمل کرتے ہوئے اس اہم عالمی آبی گزرگاہ کو بلاک کر دیا تھا، اور تہران اب مطالبات پیش کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی بحری جہاز کو ایرانی حکام سے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔