برطانیہ کا امریکا کو فوجی اڈے فراہم کرنا جارحیت میں شمولیت تصور ہوگا: عراقچی
Web Desk
20 March 2026
ایرانی وزیر خارجہ نے برطانوی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے ہوئے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کو فوجی اڈے فراہم کرنا ایران کی نظر میں جارحیت میں شامل ہونا تصور کیا جائے گا۔
ایران نے خبردار کیا کہ ایسے ممالک کو جنگ کے حصہ کے طور پر دیکھا جائے گا، اور کسی بھی قسم کی مدد کو براہِ راست شمولیت تصور کیا جائے گا۔ ایرانی قیادت نے پہلے ہی کہا ہے کہ دشمن کے تمام فوجی اڈے ہدف بن سکتے ہیں۔
قبل ازیں وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے اپنی فوجی طاقت کا اب تک صرف معمولی حصہ استعمال کیا ہے، اور اگر ایرانی انفراسٹرکچر پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ردعمل انتہائی سخت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ ایران نے کشیدگی کو بڑھانے سے گریز کیا اور عالمی برادری کی درخواستوں پر عمل کیا ہے۔ موجودہ ردعمل ایران کی طاقت کا صرف چند فیصد ہے، اور جنگ روکنے کے لیے شہری آبادیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ لازمی ہوگا۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کی ہر کارروائی دفاعی نوعیت کی ہے اور کسی بھی اضافی حملے یا خطرے کی صورت میں سخت اور جامع ردعمل دیا جائے گا۔ ان کے مطابق تحمل اور تعمیری اقدامات ہی خطے میں امن کے قیام کی ضمانت ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی میڈیا سی این این کے مطابق ایران کی جانب سے فائرنگ کے بعد ایک امریکی ایف 35 اسٹیلتھ طیارے نے مشرق وسطیٰ کے امریکی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی جبکہ بی 52 بمبار طیارہ واپس برطانیہ پہنچ گیا ہے
متعلقہ عنوانات
چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار
21 April 2026
بھارت کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش دوسرے سال میں داخل
21 April 2026
امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی
21 April 2026
سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول
21 April 2026
مقبوضہ کشمیر میں ٹریفک حادثہ، 21 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی
21 April 2026
ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف
21 April 2026
ایران سے ہونے والا معاہدہ جلد اور اوباما دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا: امریکی صدر
20 April 2026
اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات جمعرات کو واشنگٹن میں ہوں گے
20 April 2026