ایران کا جوابی وار، امریکی فضائی اڈے پر حملے کا دعویٰ
Web Desk
28 May 2026
ایران کے اہم ساحلی اور بندرگاہی شہر بندر عباس کے قریب امریکی فضائی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔ ایران نے امریکی کارروائی کے جواب میں بڑے پیمانے پر جوابی فوجی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خطے میں واقع ایک اہم امریکی فضائی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں یا ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق، یہ وہی فضائی اڈا ہے جہاں سے امریکی طیاروں نے اڑان بھر کر ایران کی فوجی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔ پاسدارانِ انقلاب نے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ “دشمن جان لے کہ کسی بھی جارحیت کا جواب اب اسی زبان میں دیا جائے گا۔ اگر امریکہ نے دوبارہ حماقت کی تو ہمارا اگلا ردِعمل اس سے کہیں زیادہ شدید اور فیصلہ کن ہوگا، اور تمام تر نتائج کی ذمہ داری جارح فریق پر عائد ہوگی۔”
اس دوران دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے شدید تصادم کی اطلاعات موصول ہو رہی ہی:برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) نے ایرانی قونصل خانے کے ذرائع سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک امریکی آئل ٹینکر پر براہِ راست فائرنگ کی ہے، جس کے بعد وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ امریکی ٹینکر اپنا بین الاقوامی سمندری ریڈار (لوکیشن ٹریکر) بند کر کے خفیہ طور پر گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پاسدارانِ انقلاب کے بحری ونگ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سیکیورٹی اور تلاشی کے نام پر 3 بین الاقوامی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔
دوسری جانب، عرب میڈیا نیٹ ورکس کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے کارروائی کے دوران ایران کے 3 جنگی ڈرونز کو فضا میں تباہ کر دیا ہے۔
“امریکہ نے ایک ہفتے کے دوران ایران کے اندر فوجی اہداف پر یہ دوسرا بڑا فضائی حملہ کیا ہے۔ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں اور خطے میں تعینات امریکی فوجی اہلکاروں کو لاحق فوری سیکیورٹی خطرات کو مستقل طور پر ختم کرنا تھا۔”
آبنائے ہرمز میں دونوں عالمی و علاقائی طاقتوں کے درمیان براہِ راست فوجی تصادم اور فائرنگ کے ان واقعات نے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی اور مشرقِ وسطیٰ کے امن کو شدید ترین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق صورتحال اب کسی بھی وقت ایک باقاعدہ علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
متعلقہ عنوانات
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی
18 June 2026
امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی
18 June 2026
مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن
18 June 2026
وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ
18 June 2026
وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی
18 June 2026
فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق
18 June 2026
وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا
18 June 2026
سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل
18 June 2026