LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی اتحاد نے ینبع کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل اور بحیرہ احمر میں 2 کروز میزائل تباہ کردیے ٹیسلا کی فلائنگ کار نے ’اڑان‘ بھر لی، 2028 میں پروڈکشن کا اعلان افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے: سید ابرار حسین ایک ہزار ڈرونز سے حملے، پوتن کا مقصد یوکرین کا مکمل خاتمہ ہے: زیلنسکی امریکا کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان فریحہ ابراہیم کی ہاسٹل میں موت، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پر 2 کروڑ روپے جرمانہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 9 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں پاکستان کی برآمدات میں سالانہ 18 فیصد اضافہ، درآمدی بل بھی 11 فیصد بڑھ گیا کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ دہشت گرد زاہد گل ہلاک چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو لندن میں آنریری بینچر کا اعزاز دے دیا گیا گلشن حدید میں گھر سے 5 لاشیں ملنے کا معاملہ، میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی اسحاق ڈار کی سول ایوی ایشن کے جاری منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ماہانہ بنیادوں پر ہوشربا اضافہ آرمینیا کی ایران کی سلامتی کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنے کی یقین دہانی پاکستان اور ورلڈ بینک کا سرمایہ کاری، روزگار کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاق

ایران میں پُرتشدد مظاہرے رک گئے، حالات معمول پر آنے لگے، انسانی حقوق تنظیم کا 1850 ہلاکتوں کا دعویٰ

Web Desk

13 January 2026

ایران میں دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیا ہے اور حالات آہستہ آہستہ معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق احتجاج کے رکنے کے بعد انٹرنیشنل کالز بحال کر دی گئی ہیں، تاہم انٹرنیٹ سروس اب بھی معطل ہے۔

امریکی انسانی حقوق تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں مظاہروں کے دوران اب تک 1850 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایرانی انٹیلی جنس حکام نے بھی متعدد گھروں سے امریکی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ قبضے میں لینے کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے فوجی کارروائی کی کوشش کی تو ایران مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں مہنگائی کے خلاف جائز احتجاج کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا اور مظاہرین کے ساتھ ریلیف پر بات چیت جاری تھی، لیکن ٹرمپ کو مداخلت کا موقع دینے کے لیے مظاہروں کو سازشی طور پر پُرتشدد بنایا گیا تاکہ ایران کے خلاف ممکنہ بیرونی فوجی کارروائی کا جواز تلاش کیا جا سکے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ان کے پاس بیرونِ ملک سے دہشت گرد ایجنٹوں کو احکامات دینے کے شواہد موجود ہیں اور وہ نہیں سمجھتے کہ امریکا منصفانہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے جرمن چانسلر کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ برلن انسانی حقوق کے لیکچر کے لیے سب سے غیر موزوں مقام ہے، کیونکہ جرمنی وینزویلا کے صدر کے اغوا اور غزہ میں 70 ہزار ہلاکتوں پر خاموش رہا ہے، جس پر اسے شرم آنی چاہیے۔