LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سانحہ پشاور کے بعد اسکولوں کے معائنے کا عمل شروع ، کئی عمارتیں خستہ حال قرار پنجاب میں ایک سال کے دوران 4 لاکھ مویشی تیار، لائیوسٹاک برآمدات میں 43 فیصد اضافہ انتظامی یونٹس میں اضافہ پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے: خالد مقبول صدیقی امریکا شرائط مانے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کھلے گا، ساتویں روز مذاکرات ہونگے: ایران خیبر پختونخوا کی معدنیات عوام کی ہیں اور رہیں گی: طارق فضل چودھری اسحاق ڈار کا ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا کے عوام نے انتشاری ٹولے کو مسترد کردیا: امیر مقام مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب خواجہ آصف نے یوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت بارے سوالات اٹھا دیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو مالدیپ کے صدر 20 اکتوبر کو پاکستان آئیں گے، کئی معاہدے و مفاہمتی یادداشتیں متوقع امریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی قابلِ تصدیق ضمانت کا مطالبہ پنجاب میں لیب ٹاپ اور اسکالرشپ سکیم فیز ٹو کا آغاز کر دیا: عظمیٰ بخاری دانش سکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریف وزیراعظم نے اسلام آباد میں دانش سکول کاافتتاح کردیا

امریکا بعض شرائط پوری کر دے تو آبنائے ہرمز 7 روز میں کھول دیں گے: عراقچی

Web Desk

25 September 2026

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نے ثالثی کرنے والے ممالک کے ذریعے عالمی بحری تجارتی راستے ‘آبنائے ہرمز’ کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک باقاعدہ منصوبہ پیش کر دیا ہے۔ نیویارک میں صحافیوں اور امریکی تھنک ٹینکس کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ اگر امریکہ ان کی چند بنیادی شرائط پوری کر دے تو آبنائے ہرمز کو محض سات دنوں کے اندر تجارتی آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ شرائط کوئی نئی نہیں بلکہ وہی ہیں جو اس سے قبل ‘اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت’ (MoU) میں طے کی گئی تھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کا وقت اب واشنگٹن پر منحصر ہے، تاہم امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل اس پر عمل درآمد زیادہ بہتر ہوگا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتخابات کے بعد معاہدے کے حامی ہیں۔

اسی دوران اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی روسی اور برطانوی ہم منصبوں سے الگ الگ اہم ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے متفقہ طور پر کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات سے پیدا ہونے والے اس بحران کا کوئی عسکری حل نہیں اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے ایرانی وزیرِ خارجہ سے ملاقات میں سخت موقف اپناتے ہوئے خبردار کیا کہ برطانیہ اپنی سرزمین پر ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے کسی بھی قسم کی دھمکی یا دشمنانہ سرگرمی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ یہ ملاقات برطانوی نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی جس میں ایرانی سائبر عناصر پر واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کے ذریعے حساس معلومات چرانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔