LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو بروقت اقدام ہے، وزیراعظم شہباز شریف ایک ہی الزام پر ایف آئی اے دوبارہ انکوائری نہیں کرسکتی: عدالت فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار بھارت ریاستی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی میں ملوث ہے: صائمہ سلیم پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کے ساتھ ہے: خواجہ آصف اسلام آباد میں احتجاج کے تماشے کو ہمیشہ کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا: رانا ثنا امریکا کے ساتھ براہ راست بات اعتماد کے شدید فقدان کے باعث ممکن نہیں: ایرانی صدر کانگو میں کارگو طیارہ گر کر تباہ، آڈیٹر جنرل سمیت 14 فوجی افسران ہلاک امریکا سے واپسی پر وزیراعظم لندن میں دو سے تین روز قیام کریں گے امریکی صدر نے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کردی طالبان رجیم کی بدترین کارکردگی، افغانستان جنوبی ایشیا کا ناکام ترین ملک قرار بی جے پی کا ہندوتوا ایجنڈا، بھارت میں اسلام دشمنی سر چڑھ کر بولنے لگی وزیراعظم یو اے ای کے بھائی کی وفات، پاکستانی صحافیوں کی جانب سے تعزیتی ریفرنس

امریکا بعض شرائط پوری کر دے تو آبنائے ہرمز 7 روز میں کھول دیں گے: عراقچی

Web Desk

25 September 2026

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نے ثالثی کرنے والے ممالک کے ذریعے عالمی بحری تجارتی راستے ‘آبنائے ہرمز’ کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک باقاعدہ منصوبہ پیش کر دیا ہے۔ نیویارک میں صحافیوں اور امریکی تھنک ٹینکس کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ اگر امریکہ ان کی چند بنیادی شرائط پوری کر دے تو آبنائے ہرمز کو محض سات دنوں کے اندر تجارتی آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ شرائط کوئی نئی نہیں بلکہ وہی ہیں جو اس سے قبل ‘اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت’ (MoU) میں طے کی گئی تھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کا وقت اب واشنگٹن پر منحصر ہے، تاہم امریکہ میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل اس پر عمل درآمد زیادہ بہتر ہوگا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتخابات کے بعد معاہدے کے حامی ہیں۔

اسی دوران اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی روسی اور برطانوی ہم منصبوں سے الگ الگ اہم ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے متفقہ طور پر کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات سے پیدا ہونے والے اس بحران کا کوئی عسکری حل نہیں اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے ایرانی وزیرِ خارجہ سے ملاقات میں سخت موقف اپناتے ہوئے خبردار کیا کہ برطانیہ اپنی سرزمین پر ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے کسی بھی قسم کی دھمکی یا دشمنانہ سرگرمی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ یہ ملاقات برطانوی نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی جس میں ایرانی سائبر عناصر پر واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کے ذریعے حساس معلومات چرانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔