LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کی تیاری، بہن ڈاکٹر عظمیٰ اور ذاتی معالج کی نگرانی میں طبی معائنہ مکمل حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کردیا امریکا کا آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ شپنگ کوریڈور قائم کرنے کا دعویٰ حوثیوں کے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ اور آرامکو تنصیب پر ڈرون حملے اسحاق ڈار سے برازیلی وزیر خارجہ کا رابطہ، عالمی امن پر تبادلہ خیال فضل الرحمان کی محمود خان اچکزئی سے ملاقات، متحدہ اپوزیشن کے قیام کا اعلان شہباز شریف نے پنشنرز کیلئے ’پروف آف لائف‘ کے جدید نظام کا افتتاح کر دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی سپیکر سردار ایاز صادق سے ملاقات, قانون سازی پر تبادلہ خیال وزیراعظم سے شامی وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن

اسلام آباد: جعلی ڈگری پر سرکاری نوکری کرنیوالا گریڈ 19 کا افسر برطرف، تمام مراعات واپس کرنے کا حکم

Web Desk

10 July 2026

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے جعلی ڈگری کی بنیاد پر سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے گریڈ 19 کے افسر وسیم افضل وڑائچ کی انٹرا کورٹ اپیل خارج کرتے ہوئے انہیں نوکری سے برطرف کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ یکم جولائی 2026 کو جاری ہونے والے عدالتی فیصلے کے مطابق، وسیم افضل وڑائچ کو فراڈ اور جعلسازی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ ان کی بی اے اور ایم بی اے کی اسناد دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی تھیں۔ عدالت نے ملزم کو ملازمت کے دوران وصول کردہ تمام مراعات اور تنخواہیں واپس کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایف آئی اے (FIA) کو ان کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق، وسیم افضل نے 1993 میں جعلی ڈگری پر ایس ایم ای (SME) بینک میں نوکری حاصل کی تھی اور 2009 میں گولڈن ہینڈ شیک لے کر الگ ہو گئے، جس کے بعد انہوں نے 2011 میں اسی جعلی بنیاد پر وزارتِ محنت و افرادی قوت میں گریڈ 19 کی اسامی حاصل کی۔

عدالتِ عالیہ کے اس فیصلے کی روشنی میں وزارتِ اوورسیز پاکستانیز نے وسیم افضل کی برطرفی اور مراعات کی واپسی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر کے ایف آئی اے کو فوجداری کارروائی کے لیے لکھ دیا ہے