LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا نے ایران کیخلاف ممکنہ کارروائی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی فوجی دستوں کی تعیناتی شروع کردی آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر دھماکے سے تباہ، 2 واپس لوٹ گئے: پاسداران انقلاب گیانا، مسافروں سے بھری فیری سمندر میں ڈوب گئی، 41 افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ ایران کی جانب سے آنے والے ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کردیا: کویت انصار اللہ کا سعودی عرب کے 2 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سیریک، اہواز اور بوشہر میں دھماکے سنے گئے ہیں، ایرانی میڈیا امریکی فوج نے ایران پر مزید شدید فضائی حملے شروع کر دیے امریکا نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کا دعویٰ مسترد کر دیا امریکی ایوان نمائندگان میں قومی دفاعی اختیارات سے متعلق بل کثرت رائے سے منظور یورپ جارحیت کی پیروی کی بجائے سفارتکاری میں قائدانہ کردار ادا کرے، کاظم غریب آبادی یمنی حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں کی تیاریاں مکمل کر لیں ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، عراقچی پیپلزپارٹی نے سعد رفیق کا بیان غیر ذمہ دارانہ، قومی یکجہتی کیخلاف قرار دیدیا امریکا نے کوئی غلطی کی تو نتائج عالمی معیشت کو بھی متاثر کریں گے، علی اکبر ولایتی دشمن ایرانی میزائلوں کی تیاری کے مراکز سے لاعلم ہے: بریگیڈیئر جنرل شکارچی

گیانا، مسافروں سے بھری فیری سمندر میں ڈوب گئی، 41 افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ

Web Desk

23 July 2026

جنوبی امریکی ملک گیانا کے ساحل کے قریب 179 مسافروں کو لے جانے والی مسافر فیری الٹنے کے بھیانک حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 41 ہو گئی ہے، جبکہ 61 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ امدادی ٹیمیں کئی روز گزر جانے کے باوجود سمندر میں ڈوبنے والے متاثرین کی تلاش میں مسلسل مصروف ہیں۔

گیانا کی حکومت کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک 77 افراد کو باحفاظت زندہ بچا لیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ “ایم وی باریما” (MV Barima) نامی فیری دارالحکومت جارج ٹاؤن سے پورٹ کیتھوما جا رہی تھی کہ شمالی بحرِ اوقیانوس میں ساحل سے تقریباً 7 میل دور اچانک الٹ گئی۔

وزیرِ تعمیرات خوان ایج ہل (Juan Edghill) نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ابتدائی طور پر فیری میں 133 مسافروں کی موجودگی کا بتایا گیا تھا، تاہم بورڈنگ کی ویڈیو فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر انکشاف ہوا کہ کشتی میں مجموعی طور پر 179 افراد سوار تھے، جس کے باعث ریسکیو کارروائی مزید پیچیدہ اور دشوار ہو گئی۔

حکام کے مطابق حادثے سے قبل فیری کی جانب سے ایئر ٹریفک کنٹرول کو ہنگامی پیغام (Emergency Signal) موصول ہوا تھا، جس کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا گیا لیکن اندھیرے اور جدید سرچ آلات کی کمی کے باعث ابتدائی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں تیل و گیس کمپنیوں نے جدید اسکینرز سے لیس جہاز اور غوطہ خور فراہم کیے، جبکہ سرچ ایریا کو 400 مربع کلومیٹر سے بڑھا کر 1,040 مربع کلومیٹر تک وسیع کر دیا گیا ہے۔

وزیرِ تعمیرات نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ فیری کے کپتان اور عملے کے دیگر ارکان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ طبی معائنے کے دوران کپتان اور کم از کم ایک عملے کے رکن کا چرس (ماریجوانا) ٹیسٹ مثبت آیا ہے، جبکہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بچ جانے والے متعدد افراد کا نام مسافروں کی سرکاری لسٹ میں درج ہی نہیں تھا۔ حکام نے مزید بتایا کہ فیری کی 2024 میں مرمت کی گئی تھی اور رواں سال اس کا تکنیکی معائنہ بھی شیڈول تھا۔