LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم نے ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی عمران سرور نیشنل بینک آف پاکستان کے نئے صدر مقرر افغانستان سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی دراندازی ناکام، 15 ہلاک یسین ملک کا بھارتی عدلیہ پر اظہارِ عدم اعتماد، مقدمہ مزید لڑنے سے انکار انڈونیشیا میں حکومت کا مفت کھانا، تقریباً 800 افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز پاکستان نے یورو بانڈ کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کر لیے: وزیر خزانہ جماعت اسلامی کی پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف آج ملک گیر ہڑتال مومنہ اقبال ہراسگی کیس: تفتیش میں ثاقب چڈھر اور اہلیہ سمیرا بے قصور قرار 100 سال میں امریکی کرنسی پر نمودار ہونے والے پہلے زندہ صدر نیویارک سٹی میں پرائمری اور مڈل اسکول کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ سیکورٹی خدشات کے باعث ضلع ٹانک میں کرفیو نافذ امریکی ریاست منی سوٹا میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک، حملہ آور بھی ہلاک برنی سینڈرز کی ٹرمپ پر کڑی تنقید، ایران جنگ ختم کرنے کا مطالبہ سعودی عرب کی آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کی مذمت

’ہم امریکی نہیں بننا چاہتے‘ گرین لینڈ نے ٹرمپ کے منصوبے کو یکسر مسترد کردیا

Web Desk

10 January 2026

گرین لینڈ کے عوام اور سیاسی قیادت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیانات کو سختی سے رد کرتے ہوئے انہیں تضحیک آمیز اور دھمکی آمیز قرار دے دیا ہے۔

گرین لینڈ کی پارلیمنٹ کی تمام پانچوں جماعتوں نے ایک مشترکہ بیان میں واضح کیا کہ، “ہم نہ امریکی بننا چاہتے ہیں، نہ ڈینش، ہم گرین لینڈرز ہیں۔”
سیاسی جماعتوں کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ کا مستقبل صرف اور صرف یہاں کے عوام کے فیصلے سے طے ہوگا، کوئی طاقت ہمیں بیچ سکتی ہے اور نہ ہی زبردستی کسی میں شامل کرسکتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ گرین لینڈ کسی کا “مشن” نہیں کہ اسے خریدا یا غیر ارادی طور پر کسی ملک کا حصہ بنایا جائے۔ یہ ایک خودمختار شناخت رکھنے والی قوم ہے جس کا حق ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرے۔

گرین لینڈ کے وزیر اعظم مُٹے ایگیدی نے بھی دوٹوک انداز میں کہا کہ، “ہم نہ امریکی بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی ڈینش، ہم اپنے طور پر کلالیت (Kalaallit) یعنی گرین لینڈ کے باشندے رہنا چاہتے ہیں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ گرین لینڈ نہ تو فروخت ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی طاقت کے زیرِ اثر لایا جاسکتا ہے۔

اسی طرح ڈیموکریٹٹ پارٹی کے رکن اور پارلیمانی انتخابات میں اہم کردار ادا کرنے والے جینز فریڈرک نیلسن نے بھی امریکی مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کسی صورت فروخت نہیں ہوگا۔

گرین لینڈ کے عوام اور سیاسی نمائندوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا رویہ خاص طور پر اس وقت زیادہ تشویش ناک بن گیا جب انہوں نے گرین لینڈ کی حیثیت بزور طاقت تبدیل کرنے جیسے بیانات دیے، جنہیں گرین لینڈ کی قیادت نے ناقابلِ قبول اور توہین آمیز قرار دیا۔