LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی اتحاد نے ینبع کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل اور بحیرہ احمر میں 2 کروز میزائل تباہ کردیے ٹیسلا کی فلائنگ کار نے ’اڑان‘ بھر لی، 2028 میں پروڈکشن کا اعلان افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے: سید ابرار حسین ایک ہزار ڈرونز سے حملے، پوتن کا مقصد یوکرین کا مکمل خاتمہ ہے: زیلنسکی امریکا کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان فریحہ ابراہیم کی ہاسٹل میں موت، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی پر 2 کروڑ روپے جرمانہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 9 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں پاکستان کی برآمدات میں سالانہ 18 فیصد اضافہ، درآمدی بل بھی 11 فیصد بڑھ گیا کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ دہشت گرد زاہد گل ہلاک چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو لندن میں آنریری بینچر کا اعزاز دے دیا گیا گلشن حدید میں گھر سے 5 لاشیں ملنے کا معاملہ، میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی اسحاق ڈار کی سول ایوی ایشن کے جاری منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ماہانہ بنیادوں پر ہوشربا اضافہ آرمینیا کی ایران کی سلامتی کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنے کی یقین دہانی پاکستان اور ورلڈ بینک کا سرمایہ کاری، روزگار کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاق

’ہم امریکی نہیں بننا چاہتے‘ گرین لینڈ نے ٹرمپ کے منصوبے کو یکسر مسترد کردیا

Web Desk

10 January 2026

گرین لینڈ کے عوام اور سیاسی قیادت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق بیانات کو سختی سے رد کرتے ہوئے انہیں تضحیک آمیز اور دھمکی آمیز قرار دے دیا ہے۔

گرین لینڈ کی پارلیمنٹ کی تمام پانچوں جماعتوں نے ایک مشترکہ بیان میں واضح کیا کہ، “ہم نہ امریکی بننا چاہتے ہیں، نہ ڈینش، ہم گرین لینڈرز ہیں۔”
سیاسی جماعتوں کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ کا مستقبل صرف اور صرف یہاں کے عوام کے فیصلے سے طے ہوگا، کوئی طاقت ہمیں بیچ سکتی ہے اور نہ ہی زبردستی کسی میں شامل کرسکتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ گرین لینڈ کسی کا “مشن” نہیں کہ اسے خریدا یا غیر ارادی طور پر کسی ملک کا حصہ بنایا جائے۔ یہ ایک خودمختار شناخت رکھنے والی قوم ہے جس کا حق ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کرے۔

گرین لینڈ کے وزیر اعظم مُٹے ایگیدی نے بھی دوٹوک انداز میں کہا کہ، “ہم نہ امریکی بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی ڈینش، ہم اپنے طور پر کلالیت (Kalaallit) یعنی گرین لینڈ کے باشندے رہنا چاہتے ہیں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ گرین لینڈ نہ تو فروخت ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی طاقت کے زیرِ اثر لایا جاسکتا ہے۔

اسی طرح ڈیموکریٹٹ پارٹی کے رکن اور پارلیمانی انتخابات میں اہم کردار ادا کرنے والے جینز فریڈرک نیلسن نے بھی امریکی مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کسی صورت فروخت نہیں ہوگا۔

گرین لینڈ کے عوام اور سیاسی نمائندوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا رویہ خاص طور پر اس وقت زیادہ تشویش ناک بن گیا جب انہوں نے گرین لینڈ کی حیثیت بزور طاقت تبدیل کرنے جیسے بیانات دیے، جنہیں گرین لینڈ کی قیادت نے ناقابلِ قبول اور توہین آمیز قرار دیا۔