LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا برطانیہ نے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کا امکان مسترد کر دیا سعودی ولی عہد کو قازقستان کے صدر کا تحریری مکتوب موصول اردن کا چرچ حملے کے بعد جنوبی شام پر فضائی حملہ، متعدد ہلاکتوں کا دعویٰ اردن کے فضائی حملے، شام نے سرحدی گزرگاہ بند کر دی

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور معاشی پیش رفت پر تبادلۂ خیال

Web Desk

19 January 2026

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ اکنامک فورم 2026 کے موقع پر سعودی عرب کے وزیر خزانہ سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، پاکستان کی معاشی پیش رفت، اور دیرینہ اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

سعودی وزیر خزانہ نے پاکستان میں حالیہ معاشی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ وزیر خزانہ نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور دیرینہ تعلقات کو اجاگر کیا اور سعودی عرب کے مسلسل اور بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ پاکستان کی معیشت استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور درآمدات کے لیے تقریباً تین ماہ کا کور موجود ہے۔ اس کے علاوہ کیپٹل مارکیٹ میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد نئے سرمایہ کار شامل ہوئے، اور شرحِ سود میں کمی کا رجحان شروع ہو چکا ہے۔

حکومت کا فوکس مستحکم کرنٹ اکاؤنٹ اور پائیدار معاشی ترقی پر ہے، اور مانیٹری پالیسی کے فیصلے اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے تحت کیے جاتے ہیں۔