LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یو اے ای پرایران کے میزائل و ڈرون حملے، دبئی اورشارجہ ایئرپورٹ پرفلائٹ آپریشن معطل نیب کراچی نے بحریہ ٹاؤن کے نام غیرقانونی طورپر الاٹ 6ارب کی زمین واگزارکرالی مقررہ مدت کے اندرفیصلہ نہ سناناقانون کی خلاف ورزی ہے، وفاقی آئینی عدالت آبنائے ہرمزسےجہازگزرنے کا امریکی دعویٰ بے بنیادہے، پاسدارانِ انقلاب ایرانی قیادت کو ختم ، نیوی، ایئرفورس اورایئرڈیفنس کو تباہ کردیا، ٹرمپ کادعویٰ امریکی قبضے میں لیے گئے ایرانی جہاز کے 22ارکان بذریعہ پاکستان وطن واپس پہنچ گئے ایران کا آبنائےہرمزمیں امریکی جہازپرمیزائل حملے کادعویٰ، امریکی سینٹکام نے تردیدکردی عدالت نے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا معرکۂ حق پاکستان کی تاریخ کا سنہری باب ہے، بلاول بھٹو زرداری فائر فائٹرز کی اہمیت سے متعلق عوامی آگاہی وقت کی اہم ضرورت ہے: مریم نواز پی آئی اے کی نجکاری؛ عارف حبیب کنسورشیم 25 مئی تک انتظامی کنٹرول سنبھالے گا، 180 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا اعلان امریکہ نے اعتماد سازی کے لیے ایرانی جہاز توسکا کا عملہ حوالے کر دیا: پاکستان صدرِ مملکت نے پی آئی اے کارپوریشن آرڈیننس 2026 کی منظوری دیدی پی آئی اے کا مسافروں کے لیے بڑا ریلیف؛ ریاض اور دمام کے ٹکٹس پر 40 فیصد رعایت کا اعلان وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا “ون کانسٹی ٹیوشن” پر دو ٹوک موقف؛ اسے ملکی تاریخ کا بڑا سکینڈل قرار دے دیا

مقررہ مدت کے اندرفیصلہ نہ سناناقانون کی خلاف ورزی ہے، وفاقی آئینی عدالت

Web Desk

4 May 2026

وفاقی آئینی عدالت  نے کئی کئی ماہ عدالتی فیصلے محفوظ رکھنے  اور سنانے سے قبل لیک ہونے کے خلاف فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے مقررہ  مدت کے اندر فیصلہ نہ سنانا قانون کی خلاف  ورزی قرار دیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق  ہائی کورٹس محفوظ شدہ فیصلہ 90 دن میں سنانےکی پابند ہیں،  مقررہ مدت کے بعد سنایا گیا فیصلہ اسی بنیاد پر ہی کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق  سپریم کورٹ  اور ہائی کورٹس کے رولز قوانین کا درجہ رکھتے ہیں، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو نتائج بھی بھگتنا ہوتے ہیں، بنچ ممبران کا جانے انجانے میں سنائے جانے سے قبل فیصلہ لیک کرنا رولز کے خلاف ہے، تمام ججز اور عدالتی عملہ قواعد پر عملدرآمد کا مکمل پابند ہے، بنچ کا سربراہ قبل از وقت فیصلہ یا اس کے نکات لیک ہونے پر ازسرنو سماعت کا حکم دے سکتا ہے،  مقدمہ کی ازسرنو سماعت فیصلہ محفوظ کرنے والا یا کوئی دوسرا بنچ بھی کرسکتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق ہائی کورٹس میں ایسا معاملہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ میں ججز کمیٹی کو بھیجا جائےگا، زیرالتواء مقدمات کا بوجھ ہو تو  انصاف کی بروقت فراہمی ضروری ہے، کچھ عرصے سے فیصلے محفوظ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ آنے تک فریقین اپنے حقوق ملنےکا طویل انتظار کرتے رہتے ہیں،  فیصلہ محفوظ ججز کےکسی نتیجے پر متفق نہ ہونے یا پیچیدہ قانونی نکات ہونے پر کیا جاتا ہے، موجودہ کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے محفوظ شدہ فیصلہ 10 ماہ کے بعد سنایا۔

وفاقی آئینی عدالت نے پاکستان شپنگ کارپوریشن کی اپیل نمٹاتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی آبزرویشنز حذف کر دیں۔

وفاقی آئینی عدالت  کے جسٹس عامر فاروق نے سات صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا ۔عدالت نے فیصلے کی نقول عملدرآمد کےلیے تمام ہائی کورٹس کو بھجوانے کا حکم دیا ہے۔