LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کی اردن میں فوجی اڈے پر کارروائی کے جواب میں ایران پر شدید حملوں کی دھمکی امریکا کو خطے میں محاصرے میں لیا جانا چاہئے: نائب سپیکر ایرانی پارلیمنٹ خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنانے کی ایرانی پالیسی ناکام ہو چکی: انور قرقاش امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ٹینکر کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کا دعویٰ مسترد کردیا اسرائیل اور یونان کے درمیان 3.5 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ طے سندھ طاس معاہدہ, پاکستان کا عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم عظیم کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی آج پانچویں برسی منائی جارہی ہے نیدرلینڈز میں سالانہ ریڈ ہیڈ فیسٹیول، دنیا بھر سے سرخ بالوں والے افراد کی شرکت پٹرول مزید مہنگا، ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 3 پیسے کمی کردی گئی اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب یاشار گولر سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال وزیراعظم کی چھٹے ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب میں شرکت، پرتپاک استقبال روس چین ویزا فری نظام مستقل کرنے پر تیار، صدر پوتن کا اعلان روس اور بیلاروس کے صدور کی ملاقات، تجارت اور عالمی امور پر گفتگو بات پکی ہوئی نہ منگنی، بلاول بھٹو بھی جعلی خبروں پر بول پڑے ایل پی جی کی قیمت میں 4 روپے 33 پیسے فی کلو اضافہ

مقررہ مدت کے اندرفیصلہ نہ سناناقانون کی خلاف ورزی ہے، وفاقی آئینی عدالت

Web Desk

4 May 2026

وفاقی آئینی عدالت  نے کئی کئی ماہ عدالتی فیصلے محفوظ رکھنے  اور سنانے سے قبل لیک ہونے کے خلاف فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے مقررہ  مدت کے اندر فیصلہ نہ سنانا قانون کی خلاف  ورزی قرار دیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق  ہائی کورٹس محفوظ شدہ فیصلہ 90 دن میں سنانےکی پابند ہیں،  مقررہ مدت کے بعد سنایا گیا فیصلہ اسی بنیاد پر ہی کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق  سپریم کورٹ  اور ہائی کورٹس کے رولز قوانین کا درجہ رکھتے ہیں، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو نتائج بھی بھگتنا ہوتے ہیں، بنچ ممبران کا جانے انجانے میں سنائے جانے سے قبل فیصلہ لیک کرنا رولز کے خلاف ہے، تمام ججز اور عدالتی عملہ قواعد پر عملدرآمد کا مکمل پابند ہے، بنچ کا سربراہ قبل از وقت فیصلہ یا اس کے نکات لیک ہونے پر ازسرنو سماعت کا حکم دے سکتا ہے،  مقدمہ کی ازسرنو سماعت فیصلہ محفوظ کرنے والا یا کوئی دوسرا بنچ بھی کرسکتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق ہائی کورٹس میں ایسا معاملہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ میں ججز کمیٹی کو بھیجا جائےگا، زیرالتواء مقدمات کا بوجھ ہو تو  انصاف کی بروقت فراہمی ضروری ہے، کچھ عرصے سے فیصلے محفوظ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ آنے تک فریقین اپنے حقوق ملنےکا طویل انتظار کرتے رہتے ہیں،  فیصلہ محفوظ ججز کےکسی نتیجے پر متفق نہ ہونے یا پیچیدہ قانونی نکات ہونے پر کیا جاتا ہے، موجودہ کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے محفوظ شدہ فیصلہ 10 ماہ کے بعد سنایا۔

وفاقی آئینی عدالت نے پاکستان شپنگ کارپوریشن کی اپیل نمٹاتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی آبزرویشنز حذف کر دیں۔

وفاقی آئینی عدالت  کے جسٹس عامر فاروق نے سات صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا ۔عدالت نے فیصلے کی نقول عملدرآمد کےلیے تمام ہائی کورٹس کو بھجوانے کا حکم دیا ہے۔