LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار برطانیہ کا دورہ مکمل کرکے ترکیہ پہنچ گئے وزیراعظم شہباز شریف آج 3 روزہ سرکاری دورے پر کرغزستان روانہ ہوں گے راول ڈیم کے سپل ویز پیر صبح 6 بجے کھولنے کا فیصلہ اسرائیل نے ایران پر ایک بار پھر حملے کی دھمکی دیدی نواز شریف سے وزیراعظم آزاد کشمیر کی ملاقات، عوامی مسائل کے فوری حل پر زور روس کے پاس دنیا کے دوسرے بڑے کوئلے کے ذخائر ہیں: صدر پوتن ایرانی سپریم لیڈر کی خلیجی ممالک سے امریکا، اسرائیل کے خلاف متحد ہونے کی اپیل پاکستان نے قبل ازوقت قرض کی سب سے بڑی ادائیگی کر دی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار لندن سے استنبول روانہ پاکستان، سعودی عرب کا زرعی و غذائی برآمدات 3 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم دادو کے کچے علاقے میں دو گروہوں میں فائرنگ کا تبادلہ، 8 افراد ہلاک کال سینٹر کے ذریعے غیر اخلاقی مواد کی فروخت: ایف آئی اے نے مزید 20 چینی شہریوں کو پاکستان بدر کر دیا پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ مشترکہ سلامتی و اجتماعی دفاع کیلئے متحد ہیں: وزیراعظم وزیراعظم آزاد کشمیر کا انٹرنیٹ اور داخلی و خارجی راستے بحال کرنے کا اعلان امریکا کے وعدے پورے ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی: ایران

مقررہ مدت کے اندرفیصلہ نہ سناناقانون کی خلاف ورزی ہے، وفاقی آئینی عدالت

Web Desk

4 May 2026

وفاقی آئینی عدالت  نے کئی کئی ماہ عدالتی فیصلے محفوظ رکھنے  اور سنانے سے قبل لیک ہونے کے خلاف فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے مقررہ  مدت کے اندر فیصلہ نہ سنانا قانون کی خلاف  ورزی قرار دیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق  ہائی کورٹس محفوظ شدہ فیصلہ 90 دن میں سنانےکی پابند ہیں،  مقررہ مدت کے بعد سنایا گیا فیصلہ اسی بنیاد پر ہی کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق  سپریم کورٹ  اور ہائی کورٹس کے رولز قوانین کا درجہ رکھتے ہیں، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو نتائج بھی بھگتنا ہوتے ہیں، بنچ ممبران کا جانے انجانے میں سنائے جانے سے قبل فیصلہ لیک کرنا رولز کے خلاف ہے، تمام ججز اور عدالتی عملہ قواعد پر عملدرآمد کا مکمل پابند ہے، بنچ کا سربراہ قبل از وقت فیصلہ یا اس کے نکات لیک ہونے پر ازسرنو سماعت کا حکم دے سکتا ہے،  مقدمہ کی ازسرنو سماعت فیصلہ محفوظ کرنے والا یا کوئی دوسرا بنچ بھی کرسکتا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق ہائی کورٹس میں ایسا معاملہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ میں ججز کمیٹی کو بھیجا جائےگا، زیرالتواء مقدمات کا بوجھ ہو تو  انصاف کی بروقت فراہمی ضروری ہے، کچھ عرصے سے فیصلے محفوظ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ آنے تک فریقین اپنے حقوق ملنےکا طویل انتظار کرتے رہتے ہیں،  فیصلہ محفوظ ججز کےکسی نتیجے پر متفق نہ ہونے یا پیچیدہ قانونی نکات ہونے پر کیا جاتا ہے، موجودہ کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے محفوظ شدہ فیصلہ 10 ماہ کے بعد سنایا۔

وفاقی آئینی عدالت نے پاکستان شپنگ کارپوریشن کی اپیل نمٹاتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی آبزرویشنز حذف کر دیں۔

وفاقی آئینی عدالت  کے جسٹس عامر فاروق نے سات صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا ۔عدالت نے فیصلے کی نقول عملدرآمد کےلیے تمام ہائی کورٹس کو بھجوانے کا حکم دیا ہے۔