LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری

ایف بی آر نے کھانے پینے، گھریلو استعمال کی اشیاء پر ٹیکسوں کی بھرمار کر دی

Web Desk

13 June 2026

اسلام آباد: وفاقی بجٹ 27-2026ء میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ملک کے ٹیکس محصولات اور نیٹ کو بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سخت اور نئے اقدامات تجویز کیے ہیں۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق، ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے ٹیکس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے عام استعمال کی سینکڑوں اشیاءِ خورونوش سے لے کر لگژری گاڑیوں تک پر سیلز ٹیکس عائد کرنے یا اس کی شرح بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔بجٹ دستاویز کے مطابق، ٹیکسوں کے مجموعی حجم اور نئے اہداف کی تفصیلات درج ذیل ہیں:ٹیکس محصولات کا ہدف اور اضافی حجممجموعی ٹیکس ہدف: آئندہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کا مجموعی ٹیکس ہدف 15,264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔اضافی ٹیکس اقدامات: اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے بجٹ میں 650 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں، جن میں سے تقریباً 150 ارب روپے کے بالکل نئے ٹیکس اقدامات ہیں۔روزمرہ اشیاء اور ریٹیل پیکنگ پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST)ذرائع کے مطابق، ریٹیل (ڈبہ بند یا پیکنگ) میں فروخت ہونے والی سینکڑوں اشیاء پر 18 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے کی تجاویز ہیں، جن میں درج ذیل شعبے شامل ہیں:شعبہ / کیٹیگریمجوزہ ٹیکس اور متاثرہ اشیاءبنیادی اشیاءِ خورونوشدودھ، بچوں کا فارمولا ملک، دودھ سے بنی دیگر مصنوعات، گھی، خوردنی (کوکنگ) آئل اور مٹھائیاں۔کچن اور کریانہ آئٹمزمختلف قسم کے مسالے، پاستا، کچن ویئر، کراکری اور پلاسٹک کی گھریلو اشیاء و اسٹوریج باکسز۔طرزِ زندگی (لائف سٹائل)ہر قسم کے جوتے (سیلز ٹیکس کے دائرے میں شامل)، بیگ، سوٹ کیس، ہینڈ بیگ اور دیگر سفری سامان۔تعمیرات و سینیٹریباتھ روم فٹنگز، سینٹری ویئر اور واش روم کے دیگر استعمال کے لوازمات۔زرعی شعبہریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والی زرعی ادویات اور جراثیم کش (Pesticides) مصنوعات۔لگژری گاڑیوں پر بھاری ٹیکسز اور کمرشل درآمداتلگژری گاڑیوں کے لیے نئے سلیبز:امیر طبقے اور پرتعیش اشیاء پر ٹیکس بڑھانے کی پالیسی کے تحت مہنگی اور لگژری ایس یو وی (SUV) گاڑیوں پر ٹیکسوں کی شرح درج ذیل کی جا رہی ہے:2 سے 3 کروڑ روپے مالیت کی SUVs: ان پر 30 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی SUVs: ان پر ٹیکس بڑھا کر 40 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔کمرشل امپورٹرز اور ڈسٹری بیوٹرز: خام مال (Raw Material) درآمد کر کے مقامی مارکیٹ میں بیچنے والے کمرشل امپورٹرز پر 3 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جبکہ ڈسٹری بیوٹرز پر ٹیکس کی شرح 0.25 فیصد سے بڑھا کر 0.50 فیصد کر دی گئی ہے۔غیر رجسٹرڈ سپلائرز: ٹیکس نیٹ کو دستاویزی بنانے کے لیے کسی بھی غیر رجسٹرڈ سپلائر سے خریداری کرنے پر 5 فیصد اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریٹیل پیکنگ والی بنیادی اشیاء بالخصوص بچوں کے دودھ اور گھی پر ٹیکس عائد ہونے سے ملک میں عام آدمی کے لیے مہنگائی کی ایک نئی لہر آنے کا خدشہ ہے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام اور ملکی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے ٹیکس نیٹ بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔