LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلوچستان میں ٹرین سروس ایک روز کے لئے معطل مٹی سے سونے کا قیمتی نگٹ برآمد ایرانی عدالت نے ایوارڈ یافتہ فلمساز کو 5 سال قید کی سزا سنادی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا سکھیکی: مسافر بس سیم نالے میں گر گئی، 5 افراد جاں بحق، 40 زخمی برطانیہ نے 3 جوہری آبدوزوں کو ایک ساتھ سمندر میں اتار دیا 24 گھنٹوں میں یمنی فوج کی 749 ٹارگٹڈ کارروائیاں، 239 حوثی ہلاک یا زخمی اسرائیلی حملے، غزہ میں کم از کم 5 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے نیتن یاہو کے حریف گادی آئزن کوٹ کا اسرائیل میں تبدیلی لانے کے عزم کا اعادہ اسرائیل میں سیاسی ڈیڈ لاک کا خدشہ، نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا ایران سفارت کاری کے ذریعے حل کیلئے ثالثوں سے قریبی رابطے میں ہے، عباس عراقچی بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم

ایف بی آر نے کھانے پینے، گھریلو استعمال کی اشیاء پر ٹیکسوں کی بھرمار کر دی

Web Desk

13 June 2026

اسلام آباد: وفاقی بجٹ 27-2026ء میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ملک کے ٹیکس محصولات اور نیٹ کو بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سخت اور نئے اقدامات تجویز کیے ہیں۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق، ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے ٹیکس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے عام استعمال کی سینکڑوں اشیاءِ خورونوش سے لے کر لگژری گاڑیوں تک پر سیلز ٹیکس عائد کرنے یا اس کی شرح بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔بجٹ دستاویز کے مطابق، ٹیکسوں کے مجموعی حجم اور نئے اہداف کی تفصیلات درج ذیل ہیں:ٹیکس محصولات کا ہدف اور اضافی حجممجموعی ٹیکس ہدف: آئندہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کا مجموعی ٹیکس ہدف 15,264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔اضافی ٹیکس اقدامات: اس ہدف کو پورا کرنے کے لیے بجٹ میں 650 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں، جن میں سے تقریباً 150 ارب روپے کے بالکل نئے ٹیکس اقدامات ہیں۔روزمرہ اشیاء اور ریٹیل پیکنگ پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST)ذرائع کے مطابق، ریٹیل (ڈبہ بند یا پیکنگ) میں فروخت ہونے والی سینکڑوں اشیاء پر 18 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے کی تجاویز ہیں، جن میں درج ذیل شعبے شامل ہیں:شعبہ / کیٹیگریمجوزہ ٹیکس اور متاثرہ اشیاءبنیادی اشیاءِ خورونوشدودھ، بچوں کا فارمولا ملک، دودھ سے بنی دیگر مصنوعات، گھی، خوردنی (کوکنگ) آئل اور مٹھائیاں۔کچن اور کریانہ آئٹمزمختلف قسم کے مسالے، پاستا، کچن ویئر، کراکری اور پلاسٹک کی گھریلو اشیاء و اسٹوریج باکسز۔طرزِ زندگی (لائف سٹائل)ہر قسم کے جوتے (سیلز ٹیکس کے دائرے میں شامل)، بیگ، سوٹ کیس، ہینڈ بیگ اور دیگر سفری سامان۔تعمیرات و سینیٹریباتھ روم فٹنگز، سینٹری ویئر اور واش روم کے دیگر استعمال کے لوازمات۔زرعی شعبہریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والی زرعی ادویات اور جراثیم کش (Pesticides) مصنوعات۔لگژری گاڑیوں پر بھاری ٹیکسز اور کمرشل درآمداتلگژری گاڑیوں کے لیے نئے سلیبز:امیر طبقے اور پرتعیش اشیاء پر ٹیکس بڑھانے کی پالیسی کے تحت مہنگی اور لگژری ایس یو وی (SUV) گاڑیوں پر ٹیکسوں کی شرح درج ذیل کی جا رہی ہے:2 سے 3 کروڑ روپے مالیت کی SUVs: ان پر 30 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی SUVs: ان پر ٹیکس بڑھا کر 40 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔کمرشل امپورٹرز اور ڈسٹری بیوٹرز: خام مال (Raw Material) درآمد کر کے مقامی مارکیٹ میں بیچنے والے کمرشل امپورٹرز پر 3 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے، جبکہ ڈسٹری بیوٹرز پر ٹیکس کی شرح 0.25 فیصد سے بڑھا کر 0.50 فیصد کر دی گئی ہے۔غیر رجسٹرڈ سپلائرز: ٹیکس نیٹ کو دستاویزی بنانے کے لیے کسی بھی غیر رجسٹرڈ سپلائر سے خریداری کرنے پر 5 فیصد اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریٹیل پیکنگ والی بنیادی اشیاء بالخصوص بچوں کے دودھ اور گھی پر ٹیکس عائد ہونے سے ملک میں عام آدمی کے لیے مہنگائی کی ایک نئی لہر آنے کا خدشہ ہے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام اور ملکی معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے ٹیکس نیٹ بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔