LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خیبر پختونخوا میں وسائل سے زیادہ مسائل، دہشتگردی کے خلاف متحد ہونا پڑے گا: طارق فضل چودھری وزیراعظم دہشتگردی کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کیلئے تیار ہیں: رانا ثنا ملتان: مزدور نوجوان کو گاڑی سے کچلنے کا کیس، ملزم توقیر عباس کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، پیشی پر وکلاء کا تشدد اسحاق ڈار کی تاجک صدر سے ملاقات، علاقائی اقتصادی تعاون کے فروغ پر زور عالمی و مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں کمی، چاندی کا بھاؤ مستحکم تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں اہم پیشرفت، امریکی منڈیوں تک رسائی بڑھانے پر اتفاق مالدیپ کی وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد، صدر بھی آج پاکستان پہنچیں گے 13 سال کا گند تین دن میں صاف نہیں ہو سکتا، وقت لگے گا: فیصل کریم کنڈی امریکی پابندیوں کے باوجود عالمی فوجداری عدالت انسانی حقوق ایوارڈ کے لیے نامزد ہڈیوں کی کمزوری کی تشخیص اور علاج بارے شعور اجاگر کرنا ضروری ہے: مریم نواز پشاور ہائیکورٹ: گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ای پاسپورٹس کے لازمی اجراء کی تاریخ میں توسیع امریکی وزیرِ جنگ نے اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ کیا اور نیتن یاہو سے ملاقات کی: ایگزیوس وزیراعظم شہباز شریف کا آج ہونے والا پشاور کا دورہ منسوخ

8 ممالک کی آبنائے ہرمز میں سمندری راستوں کی رکاوٹ کی مذمت، ناقابل قبول قرار

Web Desk

23 September 2026

جنوبی کوریا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی سمیت 8 اہم ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے عالمی اہمیت کے حامل سمندری راستوں میں تجارتی آمدورفت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو ‘ناقابلِ قبول’ قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر نیویارک میں منعقدہ وزارتی اجلاس کے بعد یہ بیان جاری کیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے والے آٹھ ممالک—جنوبی کوریا، آسٹریلیا، فرانس، جرمنی، جاپان، نیوزی لینڈ، پولینڈ اور برطانیہ—نے بین الاقوامی سمندری راستوں کی آزادی اور آمدورفت کی حفاظت پر مکمل اتفاق کا اظہار کیا۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ طاقت کے استعمال، دھمکیوں یا غیر قانونی ٹیکسوں اور شرائط کے ذریعے تجارتی جہاز رانی میں خلل ڈالنا عالمی سلامتی، اقتصادی خوشحالی اور بالخصوص پسے ہوئے و متاثرہ ممالک کے لیے شدید خطرہ ہے۔ تمام ممالک نے اقوام متحدہ کے سمندری قوانین کے معاہدے (UNCLOS) کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بحری راستوں کی خلاف ورزیوں کے خلاف واضح موقف اختیار کریں۔