LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کو مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے: ایرانی صدر ٹرمپ کا نڈال حسن کی سزائے موت براہِ راست نشر نہ کرنے کا اعلان زرمبادلہ ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا اضافہ سعودی عرب میں یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل کا سربراہی اجلاس ملتوی الیکشن کمیشن کا پنجاب اور کنٹونمنٹس میں بلدیاتی انتخابات فوری کرانے کا فیصلہ پاکستان اور ملائیشیا کی افواج کی دو ہفتوں پر مشتمل مشترکہ فوجی مشق اختتام پذیر انصاف کی فراہمی کیلئے عدلیہ اور وکلاء کا تعاون ناگزیر ہے: چیف جسٹس آزاد کشمیر کابل میں چائے پینے کے بعد دہشت گردوں کو چھوڑنا بڑی غلطی تھی: اسحاق ڈار مدینہ منورہ کی جانب داغا گیا کروز میزائل سعودی فضائی دفاعی نظام نے تباہ کردیا ہماری پوری کوشش تھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ نہ ہو: محسن نقوی احد چیمہ کی ایم ڈی آپریشنز ورلڈ بینک سے ملاقات، پاکستان کے ترقیاتی اہداف پر اہم تبادلہ خیال روسی وزیرِ داخلہ پاکستان کا 4 روزہ دورہ مکمل کر کے واپس روانہ ایمان مزاری اور عبدالہادی چٹھہ کے جیل ٹرائل کی منظوری پشاور دیر کالونی اسکول حادثہ: ایل آر ایچ اسپتال میں 33 افراد جاں بحق اور 20 زخمی لائے گئے، ترجمان کے پی ایمرجنسی مارشل لاء سے بدتر، تمام طاقت کا سرچشمہ پارلیمنٹ ہو تو غیر مشروط مذاکرات کو تیار ہیں: محمود خان اچکزئی

ملکی معیشت ڈنڈے کے زور پر نہیں پیار سے چلتی ہے: بلاول بھٹو

Web Desk

9 December 2025

لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بزنس کے حوالے سے تاریخ کو غلط پیش کیا جاتا ہے، لیکن ہم تاریخ کو چھوڑکر مستقبل کی طرف آتے ہیں، ہم ایف پی سی سی آئی کے ایڈوائزری گروپ کیساتھ مل کر کام کرینگے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم تین نسلوں سے پاک چین تعلقات کو لے کر چل رہے ہیں، چین نے پاکستان کے لیے بہت سی کاروباری رعایتیں دی ہیں، بطور وزیر خارجہ میں نے دیکھا کہ ہم اس سے فائدہ نہیں اٹھا پارہے، ہمیں ضلعی سطح کی اکانومی کیلئے کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیرف وار،کی وجہ سے پاکستان کیلئے عالمی سطح پر اکنامک گنجائش نکلی ہے۔جی ایس پی پلس کی وجہ سے بطور وزیر خارجہ یورپ کا شکریہ ادا کرتا تھا،  لیکن اس سے یورپ کی ایکسپورٹ میں بھی 60 فیصد اضافہ ہوا،  صدر پاکستان،گورنر پنجاب، گورنر کے پی کے ،سندھ حکومت کیساتھ ساتھ وزیراعظم بھی بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان سینٹرلائزیشن پر یقین رکھتے ہیں، لیکن پاکستان پیپلز پارٹی ڈی سینٹرلائزیشن پر یقین رکھتی ہے، اس لیے ہم ایف پی سی سی آئی کی ضلعی سطح پر معاشی پروگرام کی حمایت کرتے ہیں،  حکومتوں کا فوکس معیشت کو ڈنڈے کے زور پر چلانا ہوتا ہے لیکن معیشت کو ڈنڈے کے زور پر نہیں چلایا جاسکتا، 18ویں ترمیم سے پہلے وفاق سیلز ٹیکس لیتا تھا