LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں امریکی و ایرانی وفود کی ملاقات امریکا کے اصرار پر ہوئی، ایرانی میڈیا بحیرہ احمر کے راستے پاکستان کیلئے سعودی خام تیل کی ترسیل دوبارہ شروع وائٹ ہاؤس نے ’ٹرمپ ٹی وی‘ کے نام سے 24 گھنٹے چلنے والا چینل لانچ کر دیا ایران کے پڑوسی ممالک کا کشیدگی کے خاتمے کیلئے سفارتکاری عمل کی بحالی پر زور آئی ایم ایف کا یوکرین کو معاشی استحکام برقرار رکھنے کیلئے فنڈنگ کا فیصلہ ابتدائی ملاقات میں ٹرمپ کے ساتھ اچھا رابطہ قائم ہوا ہے، برطانوی وزیراعظم اسلام آباد ضرور آئیں گے، پرامن ماحول برقرار رکھا جائے گا: بیرسٹر گوہر خیبرپختونخوا کے حالات خراب ہیں، گورنر راج پر غور ہو رہا ہے: بیرسٹر عقیل موٹروے سمیت اہم قومی شاہراہیں آج شام سے ٹریفک کیلئے مکمل بند رہیں گی چینی صدر کا ٹرمپ پر تائیوان کو اسلحہ فروخت روکنے کیلئے دباؤ ڈالنے کا امکان طالبان دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی ختم کریں، اسحاق ڈار کا مطالبہ احتجاج، دھرنے جاری، حافظ نعیم الرحمان کا لیوی ختم کرانے تک پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق گمراہ کن رپورٹنگ کی وضاحت جاری کر دی ایران کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اب مشرق وسطیٰ میں غنڈہ گردی نہیں کر سکتا: ٹرمپ

بیرسٹر گوہر کی محمود اچکزئی سے ملاقات، 27 ستمبر کے لانگ مارچ پر مشاورت

Web Desk

23 September 2026

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے اہم ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، اپوزیشن تحاد (تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان) کی حکمتِ عملی، باہمی تعاون اور آئندہ کے سیاسی و آئینی لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

ملاقات کے بعد جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے اپوزیشن کے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بلاجواز مقدمات، گرفتاریوں اور انہیں ہراساں کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں، ملاقات میں 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ مارچ مکمل طور پر پرامن ہوگا اور صرف آئینی و جمہوری حقوق کی بحالی کے لیے کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کا حتمی شیڈول اور وقت کا فیصلہ اپوزیشن اتحاد خود طے کرے گا۔