LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ویمنز انڈر 19 ایشیا کپ کی تیاری، پاکستان میں سہ فریقی سیریز کا اعلان امریکا کا پہلی بار خلا میں ہتھیار تعینات کرنے کا اعتراف میل اِن ووٹنگ کا نظام بدعنوانی اور بے قابو مسائل کا شکار ہے: ٹرمپ 2 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی اگست میں فیول ایڈجسٹمنٹ میں کمی سے 10 ارب روپے کی بچت ہوئی: اویس لغاری پاکستان اور آئی اے ای اے میں چشمہ-5 نیوکلیئر پاور پلانٹ کے سیف گارڈز معاہدے پر دستخط بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کرا دی گئی حکومتی سطح پر سمارٹ لاک ڈاؤن کی کوئی بات زیر بحث نہیں: طارق فضل چودھری پٹرولیم قیمتوں میں 100 روپے کے ریلیف سے عام آدمی کو کچھ سہولت ملے گی: مصدق ملک خلیجی خطے میں حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں: حاقان فیدان سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جائے: بیرسٹر گوہر پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، حکومت کا سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 1421 پوائنٹس بڑھ گیا سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات گلگت بلتستان کابینہ میں بجٹ منظور، کم از کم اجرت 44 ہزار روپے مقرر

اگست میں فیول ایڈجسٹمنٹ میں کمی سے 10 ارب روپے کی بچت ہوئی: اویس لغاری

Web Desk

15 September 2026

وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ پاور ڈویژن کے بروقت اقدامات اور موثر فیصلوں کے باعث اگست 2026ء میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اپنے ایک خصوصی بیان میں انہوں نے بتایا کہ اس کمی کے نتیجے میں نہ صرف بجلی کے صارفین پر سے اضافی مالی بوجھ کم ہوا ہے بلکہ قومی خزانے اور عوام کو تقریباً 10 ارب روپے کی بچت بھی حاصل ہوئی ہے۔ جولائی میں فیول ایڈجسٹمنٹ 2.0581 روپے فی یونٹ تھی، جو اگست میں کم ہو کر 1.73 روپے فی یونٹ پر آ گئی ہے۔

وزیر توانائی کے مطابق فیول ایڈجسٹمنٹ میں اس واضح کمی کا بنیادی سبب بجلی کی پیداوار کے لیے درآمدی ایندھن کے بجائے مقامی وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اگست کے مہینے میں ملک بھر میں پیدا ہونے والی کل بجلی کا 72 فیصد حصہ مقامی وسائل سے حاصل کیا گیا، جبکہ صرف 28 فیصد بجلی کے لیے درآمدی کوئلے اور آر ایل این جی (RLNG) کا سہارا لیا گیا۔ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث بین الاقوامی ایندھن مارکیٹوں پر شدید دباؤ کے باوجود یہ کامیابی ممکن بنائی گئی۔

اویس لغاری نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پاور ڈویژن نے پیٹرولیم ڈویژن اور این سی ایم سی کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے اضافی مقامی گیس کا انتظام کیا، جس سے مہنگی اسپاٹ کارگو آر ایل این جی کی خریداری سے گریز ممکن ہوا۔ اگر فرنس آئل یا درآمدی آر ایل این جی سے بجلی پیدا کی جاتی تو صارفین پر 10.6 ارب روپے کا اضافی ٹیرف بوجھ پڑتا۔ انہوں نے رات کے اوقات میں چند گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ برداشت کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنی عوام دوست پالیسیوں کے تحت شہریوں کو ہر ممکن معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔