LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اینڈی برنہم نے برطانیہ کے 59ویں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات میں نیا سنگِ میل، اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مالی گوشوارے طلب کر لیے امریکا سے لڑائی کے باوجود ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے: ایران پاکستان اور کینیڈا کے درمیان ترجیحی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق عمران خان سے ملاقاتوں کا کیس: عدالت کا جیل انتظامیہ سے ریکارڈ پیش کرنے کا حکم امریکا کا بوشہر میں زیر تعمیر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملہ خطے کیلئے خطرناک ہے: ایران وفاقی حکومت کا کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ شہباز شریف کے ہتکِ عزت دعوے کا کیس، وکیل کی درخواست پر دلائل طلب قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کی منظوری سے مشروط عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ کاروباری ہفتے کے پہلے روز سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان ایران مختلف ذرائع سے مذاکرات کی خواہش کا اشارہ دے رہا ہے: امریکی وزیر خارجہ وزیراعظم کی قومی ترقیاتی منصوبوں کو بروقت اعلیٰ معیار کیساتھ مکمل کرنے کی ہدایت مال بردار ٹرین کی بوگیاں ڈی ریل ہونے سے ٹریک تاحال بند، بحالی کا کام جاری

ایف سی ہیڈ کوارٹرز خودکش دھماکا: تینوں حملہ آوروں کے افغان شہری ہونے کی تصدیق

Web Desk

30 November 2025

پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے خودکش دھماکوں سے متعلق تفتیش جاری کر دی گئی۔

تفتیشی حکام کے مطابق نادرا نے ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کرنے والے تینوں حملہ آوروں کی افغان شہریت کی تصدیق کر دی ہے، تاہم نادرا کو حملہ آوروں کی مزید تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئیں۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے متعلق اب تک 100 سے زیادہ مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے، حملہ آوروں کی رحمان بابا قبرستان سے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز تک آمد کی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔حکام نے مزید بتایا کہ تفتیشی ٹیم سہولت کار کی کھوج لگا رہی ہے، حملے کے دن خودکش حملہ آوروں کے زیر استعمال کوئی موبائل فون نہیں تھا۔واضح رہے کہ 24 نومبر کو فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز میں خودکش دھماکے ہوئے تھے جس میں 3 ایف سی اہلکار شہید جبکہ تینوں حملہ آور ہلاک ہوئے تھے۔پولیس نے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی میں درج کرایا تھا۔

پولیس کے مطابق مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف مقامی ایس ایچ او عبداللہ جلال کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق دہشت گردوں نے ملکی سالمیت اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، تین موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا، ایک حملہ آور نے گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑایا، دو حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے، جائے وقوعہ سے 27 سے زیادہ خول برآمد ہوئے۔