LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
احتجاج ہمارا حق،27 ستمبر کو پوری قوت کے ساتھ نکلیں گے: سہیل آفریدی امریکا کا ایرانی صدر کی میڈیا ٹیم کو ویزے دینے سے انکار ایران پر حملے کا فیصلہ کن جواب دیں گے: جنرل امیر حاتمی اسلام آباد کنٹینروں سے بھر گیا، کسی کو احتجاج کا حق نہیں دیا جا رہا: مولانا فضل الرحمان محسن نقوی تہران پہنچ گئے، ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں متوقع امریکا ٹیک صنعت کا بڑا شراکت دار، جلد ایپل اور گول بھی پاکستان آرہے ہیں: شزہ فاطمہ دو ماہ میں ترسیلات زر 6.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں: احسن اقبال کا دعویٰ سہیل آفریدی اگر ڈیلیور نہیں کر سکتے تو گھر چلے جائیں: عطا تارڑ سٹاک مارکیٹ میں تیزی، کاروبار کا مثبت رجحان رہا ایم کیو ایم کی اتوار والی ریلی ریفرنڈم تھا، دھمکیوں سے نہیں ڈرتے : خالد مقبول صدیقی روسی اسٹیٹ ڈوما کے الیکشن: صدر پوتن کی حامی جماعت یونائیٹڈ رشیا کو واضح برتری خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی زمینی و فضائی کارروائی، 37 دہشت گرد ہلاک اسرائیلی وزیر کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا، مذہبی رسومات کی ادائیگی، سعودیہ اور قطر کی شدید مذمت شادی کی تقریب میں مضر صحت کھانا کھانے سے 400 افراد کی حالت غیر ہوگئی حوثیوں کا سعودی عرب پر 24 گھنٹوں میں 28 فضائی حملوں کا الزام

دو ماہ میں ترسیلات زر 6.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں: احسن اقبال کا دعویٰ

Web Desk

21 September 2026

وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ملکی برآمدات میں پائیدار اور طویل المدتی بنیادوں پر اضافہ کرنا ہے تاکہ معیشت کو استحکام حاصل ہو سکے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ جاری مالی سال کے پہلے دو ماہ (جولائی اور اگست) کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر (Remittances) کی مجموعی رقم 6.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ سالانہ سطح پر برائے نام سمندر پار پاکستانی تقریباً 40 ارب ڈالر وطن ارسال کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، انہی دو ماہ میں پاکستان کی آئی ٹی (IT) برآمدات 81 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔

احسن اقبال نے تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سابقہ دورِ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں درآمدات کو 80 ارب ڈالر تک پہنچا دیا گیا جس سے روپے کی قدر میں شدید کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حاصل کی گئی 6 فیصد معاشی ترقی مصنوعی تھی، کیونکہ وہ برآمدات کے بجائے بے تحاشا درآمدات پر مبنی تھی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر وہی ترقی برآمدات بڑھا کر حاصل کی جاتی تو ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے، تاہم موجودہ حکومت اب معیشت کو مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر استوار کر رہی ہے۔