LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں مضمر ہے: شہباز شریف سپین میں دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 30 افراد ہلاک وزیراعلیٰ مریم نواز کے کاشتکاروں کیلئے بڑے اعلانات، اپنا کسان بینک قائم کرنے کا فیصلہ پی سی بی اور الائیڈ بینک میں سکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلئے 10 کروڑ روپے کا معاہدہ امریکا مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پر بڑے حملے کیلئے تیار، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیا ماسکو میں گیس برآمد کرنیوالے ممالک کے آٹھویں سربراہی اجلاس کا اعلامیہ منظور جام کمال خان کا دوحہ میں پاکستانی مصنوعات کے ایکسپورٹ ڈسپلے سینٹر کا افتتاح مولانا فضل الرحمٰن کی راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کمانڈر کویت نیول فورس کی نیول ہیڈکوارٹرز آمد، نیول چیف سے ملاقات 9 مئی کیس: سہیل آفریدی سمیت پانچ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ملک بھر میں اسکولز ہاکی لیگ شروع کرنےکا فیصلہ ایبٹ آباد پبلک سکول کے مسائل حل کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، گورنر فیصل کریم الیکشن کمیشن کا خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم: انتخابی شیڈول مانگ لیا گیا ایران کا قطر سے ثالثی کے تقاضوں پر عمل اور محتاط بیانات کا مطالبہ گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، ملک کسی جرنیل کی جاگیر نہیں:مولانا فضل الرحمان

دو ماہ میں ترسیلات زر 6.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں: احسن اقبال کا دعویٰ

Web Desk

21 September 2026

وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ملکی برآمدات میں پائیدار اور طویل المدتی بنیادوں پر اضافہ کرنا ہے تاکہ معیشت کو استحکام حاصل ہو سکے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ جاری مالی سال کے پہلے دو ماہ (جولائی اور اگست) کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر (Remittances) کی مجموعی رقم 6.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ سالانہ سطح پر برائے نام سمندر پار پاکستانی تقریباً 40 ارب ڈالر وطن ارسال کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، انہی دو ماہ میں پاکستان کی آئی ٹی (IT) برآمدات 81 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔

احسن اقبال نے تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سابقہ دورِ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں درآمدات کو 80 ارب ڈالر تک پہنچا دیا گیا جس سے روپے کی قدر میں شدید کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت حاصل کی گئی 6 فیصد معاشی ترقی مصنوعی تھی، کیونکہ وہ برآمدات کے بجائے بے تحاشا درآمدات پر مبنی تھی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر وہی ترقی برآمدات بڑھا کر حاصل کی جاتی تو ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے، تاہم موجودہ حکومت اب معیشت کو مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر استوار کر رہی ہے۔