LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلوچستان میں ٹرین سروس ایک روز کے لئے معطل مٹی سے سونے کا قیمتی نگٹ برآمد ایرانی عدالت نے ایوارڈ یافتہ فلمساز کو 5 سال قید کی سزا سنادی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا سکھیکی: مسافر بس سیم نالے میں گر گئی، 5 افراد جاں بحق، 40 زخمی برطانیہ نے 3 جوہری آبدوزوں کو ایک ساتھ سمندر میں اتار دیا 24 گھنٹوں میں یمنی فوج کی 749 ٹارگٹڈ کارروائیاں، 239 حوثی ہلاک یا زخمی اسرائیلی حملے، غزہ میں کم از کم 5 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے نیتن یاہو کے حریف گادی آئزن کوٹ کا اسرائیل میں تبدیلی لانے کے عزم کا اعادہ اسرائیل میں سیاسی ڈیڈ لاک کا خدشہ، نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا ایران سفارت کاری کے ذریعے حل کیلئے ثالثوں سے قریبی رابطے میں ہے، عباس عراقچی بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم

پاکستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش سے افغان کسان شدید مالی بحران کا شکار

Web Desk

8 June 2026

کابل/پشاور: افغان طالبان حکومت کی مروجہ پالیسیوں اور مختلف عسکری تنظیموں کے حوالے سے بین الاقوامی تحفظات کے باعث پاک افغان تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، جس کا سب سے بڑا خمیازہ افغانستان کے غریب کسانوں اور کاشتکاروں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

مروجہ سکیورٹی پوزیشن اور سرحدوں کی بار بار بندش کی وجہ سے افغانستان میں ٹماٹر، پیاز، تازہ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں انتہائی نچلی سطح پر آ گئی ہیں، جس کی بدولت افغان زرعی شعبہ ایک گہرے مینوئل بحران کا شکار ہو چکا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک حالیہ ویڈیو نے افغان کاشتکاروں کی کسمپرسی کی اصل پوزیشن کو دنیا کے سامنے واضع کر دیا ہےویڈیو میں ایک افغان کاشتکار نے اپنی فصلوں کی تباہی پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جو ٹماٹر پہلے 12 ہزار افغانی فی من فروخت ہو رہا تھا، اب مارکیٹ بند ہونے کی وجہ سے اس کی قیمت گر کر محض 500 افغانی رہ گئی ہے۔

کسان کا مینوئل گائیڈ کے طور پر کہنا تھا: “طالبان حکومت کسانوں کی ان پے در پے مشکلات کا کوئی مستقل حل نکالے، ہم قیمتوں میں اس شدید کمی سے سخت پریشان ہیں۔ آخر ہم کسان کیا کریں؟ اور کب تک یوں ہی دربدر اور مالی مشکلات کا شکار رہیں گے؟”

اقتصادی ماہرین کے مطابق، افغانستان کی زراعت کا زیادہ تر دارومدار پاکستانی مارکیٹوں پر ہےماہرینِ تجارت کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی مبینہ پشت پناہی اور سکیورٹی خدشات کے باعث جب بھی سرحد بند ہوتی ہے، تو افغان برآمدات (Exports) بری طرح رک جاتی ہیں۔ پاکستانی منڈیوں تک رسائی محدود ہونے سے افغان پھل اور سبزیاں سرحد پر ہی گل سڑ جاتی ہیں، جس سے مقامی مارکیٹ میں مال کا ہجوم ہو جاتا ہے اور قیمتیں کریش کر جاتی ہیں۔

اس مروجہ صورتحال نے افغان شہریوں اور کسان برادری کے اندر شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ بارڈر مینوئل کی بندش اور معاشی تنہائی کے باعث اب خود افغان عوام طالبان حکومت کی انتہاپسندانہ اور امن دشمن پالیسیوں پر کھل کر سوالات اٹھا رہے ہیں کہ کیوں پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر کسانوں کو اس معاشی قتل عام سے نہیں بچایا جا رہا۔